ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبرپختونخوا؛ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

خیبرپختونخوا؛ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

سٹی 42 : خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے، محکمہ صحت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض اور علاج معالجہ کے حوالے سے رپورٹ جاری کردی۔ 

 محکمہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ جس کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض تیزی سے پھوٹ پڑے ہیں اور ایک لاکھ 64 ہزار مریضوں کا اب تک علاج معالجہ کیا جاچکا ہے۔ ان علاقوں میں ہیضہ، ڈینگی، ملیریا، سانس اورجلد کی بیماریاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ بونیر سمیت 11 اضلاع میں ہیضہ کے 2 ہزار 506 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 116 خونی ہیضے والے مریض بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہزار 112 مریضوں کا علاج کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دیرلوئر میں ہیضہ کےسب سے زیادہ 823، سوات میں 591، بونیر 319 اور باجوڑ میں ہیضہ کے 262 کیسز سامنےآئے، دیراپرمیں 226، بٹگرام154اور شانگلہ میں ہیضہ کے 168، مانسہرہ میں 39،صوابی 18 اور تورغر میں ہیضہ کے13 مریضوں کا علاج کیاگیا۔ اس کے علاوہ شانگلہ میں ملیریا کے 80، دیرلوئر16، سوات14، تورغر11 اور دیراپر میں جبکہ 2 صوابی میں ڈینگی کے8، دیرلوئر6 اور باجوڑ میں ایک کیس سامنےآیا۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں خارش، دانوں سمیت جلدی امراض کےمریضوں میں اضافہ ہوا ہے، تورغرمیں172، دیرلوئرمیں125، بونیرمیں117، شانگلہ میں 128، بٹگرام میں83 اورباجوڑ میں جلدی امراض کے4 اور دیرلوئر میں ایک مریض رپورٹ ہوا۔ اس کے علاوہ سیلاب زدہ علاقوں میں نزلہ ، زکام اور سانس کی بیماریاں بھی پھیلنے لگیں، متاثرہ 9 اضلاع میں مجموعی طور پر 2 ہزار 245 مریض رپورٹ ہوئے اور ایک ہزار 413 مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔

دستاویز کے مطابق دیرلوئرمیں 736، سوات703، شانگلہ359، بٹگرام217 اورصوابی میں103کیسز سامنے آئے۔

سیکرٹری صحت شاہد اللہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اورموبائل اسپتال موجود ہیں اور اب تک ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے جبکہ سانپ اور کتے سےکاٹنےکی ویکیسنز متاثرہ علاقوں میں بھجوادی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سےمتاثرہ اضلاع میں نفسیاتی امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں موجود ہیں۔