ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے تجارتی پالیسی پر رپورٹ جاری کر دی

معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے تجارتی پالیسی پر رپورٹ جاری کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( وقاص عظیم)معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے پاکستان کی تجارتی پالیسی کے حوالے سے رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں ضلعی سطح پر تجارتی پالیسی تشکیل دینے کی سفارش  اورتجارتی نظم و نسق کے اداروں میں مؤثر اصلاحات  پر زور دیا گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد صنعت، زراعت اور ہنرمندی کے شعبے صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، تاہم تجارتی پالیسی اب بھی وفاقی سطح پر تشکیل دی جا رہی ہے۔ معاشی تھنک ٹینک کے مطابق   تجارتی پالیسی اب بھی وفاقی سطح پر ہے،نئی تجارتی پالیسی کے لیے ضلعی سطح پر نچلی سطح سےحکمت عملی تیارکی جائے۔ 2009 سے 2025 تک پاکستان کے تمام ٹریڈ پالیسی فریم ورک برآمدی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے، 2009 سے 2012 تک برآمدی ہدف میں 4.45 فیصد شارٹ فال ہوا.

ای پی بی ڈی رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025 تک برآمدی ہدف میں شارٹ فال 43.68 فیصد تک پہنچ گیا،مالی سال 2025 میں برآمدات جی ڈی پی کا صرف10.4 فیصد رہیں۔ہر نئے فریم ورک کے ساتھ ہدف اور حقیقی برآمدات کے درمیان فرق بڑھتا گیا، پاکستانی برآمدات خطےکے دیگر ممالک کےمقابلے میں کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئیں۔مالی سال 2025 میں درآمدات جی ڈی پی کا 17.21 فیصد رہیں ،مالی سال2025 میں تجارتی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق برآمدی کارکردگی میں کمزوری کے اثرات ملکی بیرونی کھاتوں پر بھی نمایاں ہیں،درآمدی طلب میں اضافہ برآمدی استعداد سے مسلسل زیادہ رہا،پیداواری لاگت میں اضافہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی میں بڑی رکاوٹ ہے،معاشی نمو کے نتیجے میں درآمدی طلب میں اضافہ برآمدی استعداد سے زیادہ تیز رہا۔

معاشی توسیع کے ادوار میں بھی بیرونی عدم توازن پیدا ہوتا رہا،دو دہائیوں کے دوران جڑواں خساروں کا چکر برقرار رہا۔رپورٹ کے مطابق تجارتی نظم و نسق کے اداروں میں مؤثر اصلاحات  پر زور دیا گیا ہے ۔