ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈرون نے ایف سولہ طیارہ گرانے میں کامیابی حاصل کرلی

Turkish unmanned fighter Kızılelma conducts historic F-16 test, simulated firing test air-to-air missile Gökdoğan
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42: ترکیئے کے پہلے بغیر پائلٹ کے لڑاکا طیارے، Bayraktar Kızılelma نے ایک اور تاریخی تجربہ مکمل کر لیا، جس نے F-16  طیارے کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا اور "مار گرایا"۔

تجربہ میں استعمال ہونے والا ایف 16 طیارہ ترکیہ کی ائیر فورس کے زیر استعمال ہے۔ 

ترکیئے کے ڈویلپر بائکر نے بتایا کہ  فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل گوکدوگان کے ساتھ کیے گئے مصنوعی فائرنگ کے ٹیسٹ میں براہ راست نشانہ  بنانے کی غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔

Caption شمال مشرقی ترکیئے میں بنائی گئی اس تصویر مین ایف سولہ طیارے اور ڈرون طیارے کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

بائیکر Baykar کے ایک بیان کے مطابق، Bayraktar Kızılelma ڈرون، جو مقامی طور پر اور کمپنی کے اپنے وسائل سے تیار کیا گیا ہے، اس نے کامیابی کے ساتھ ایک اور اہم سنگ میل عبور کیا ہے جو میدان جنگ میں اس کی تاثیر کو ثابت کرے گا۔

ترکیئے کے علاقے  Çorlu میں Akıncı فلائٹ ٹریننگ اینڈ ٹیسٹ سینٹر سے ٹیک آف کرتے ہوئے، آبائی نسل کے بغیر پائلٹ کے جنگی طیارے نے 15,000 فٹ کی اوسط بلندی پر ایک گھنٹہ، 45 منٹ کی پرواز کی، ایف سولہ جنگی طیارے کے ساتھ  قریبی تصادم کا مظاہرہ کیا اور F-16s نے عقلی انضمام کی تصدیق کی۔

کمپنی نے کہا کہ  اس ٹیسٹ کے بعد  Bayraktar Kızılelma کی ٹیسٹ فلائٹس کے  55 گھنٹے مکمل ہو گئے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ترک فضائیہ کے دو F-16 لڑاکا طیاروں نے Bayraktar Kızılelma-Gökdogan کی میزائل سے مسلح پرواز اور مراد AESA ریڈار کی کارکردگی کے ٹیسٹ میں حصہ لیا۔

F-16 میں سے ایک نے Kızılelma کے ساتھ اڑان بھرتے ہوئے قریبی فارمیشن کا مظاہرہ کیا، جس نے انسان بردار لڑاکا طیارے کے ساتھ پلیٹ فارم کی مطابقت کا مظاہرہ کیا، جب کہ دوسرے F-16 نے آزمائشی منظر نامے میں "ٹارگٹ ہوائی جہاز" کے طور پر کام کیا۔

ترکیے  کے ڈرون نے امریکہ کے ایف-16 جنگی طیارے کو مار گرایا۔ اس واقعہ نے انڈسٹری کو حیرت سے دوچار کر دیا ہے اور ڈرون کے متعلق اب تک کے خیالات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ صدر  ٹرمپ سمیت پوری دنیا حیران ہے کہ ڈرون ایک شاندار جنگی طیارے کو گرا سکتا ہے!
ترکیے نے دعویٰ کیا کہ اس کے کامبیٹ ڈرون بائراکٹر کجیلیما نے ایک سمیولیٹیڈ ٹیسٹ میں امریکی ایف-16 جنگی طیارہ کو کامیابی کے ساتھ لاک کر کے ورچوئلی مار گرایا۔

ترکیے نے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی اور اعلیٰ درجہ کی ڈرون پروڈکٹس سے  پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ مئی 2025 کی جنگ میں جب بھارت نے پاکستان پر ڈرونوں  کے ساتھ یلغار کی تو پاکستان نے اس کا جواب اپنے ساختہ ڈرونز کے ساتھ ترکئے کے بنے ہوئے ڈرونز سے بھی دیا تھا اور بھارت اس جنگ میں شکست کھانے کے بعد کئی ہفتے تک رو رو کر اپنے عوام کو یہ بتاتا رہا کہ ہم کو پاکستان نے نہیں ترکیئے کے ڈرونوں نے مارا ۔۔۔ 

اب ایک بار پھر ترکیئےنے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کی غیر معمولی کامیابی سے دنیا کو آگاہ کیا ہے ۔ترکیئے کے حکام نے بتایاہے کہ اس کے کامبیٹ ڈرون بائراکٹر کجیلیما نے ایک سمیولیٹیڈ ٹیسٹ میں امریکی ایف-16 جنگی طیارہ کو کامیابی کے ساتھ لاک کر کے ورچوئلی مار گرایا۔ یہ ٹرائل ہائی-ایلٹی ٹیوڈ ایئر کامبیٹ سمیولیشن کے تحت کیا گیا۔  جس میں دونوں فریقین کی صلاحیتوں کا تجربہ کیا گیا۔ اس کامیابی کو ترکیے حکومت اور دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تجربہ ترکیے کی فضائیہ میں شامل ایف-16 طیاروں کے ساتھ کیا گیا، اس تجربہ میں کجیلیما کے رڈار، ڈاٹا سسٹم اور میزائل انٹرفیس کی تیاری کی جانچ کرنا اصل مقصد تھا۔

 سمیولیشن میں ڈرون نے ایف-16 جنگی طیارہ کو تقریباً 30 میل کی دوری پر لاک کیا اور ورچوئل ’ڈائریکٹ ہٹ‘ حاصل کیا، جسے ترکیے جدید ہوائی جنگ کے لیے اہل پلیٹ فارم کی شکل میں پیش کر رہا ہے۔

اس ٹیسٹنگ کے دوران ڈرون نے ترکیے  کے علاقہ کو کورلو  میں واقع اے کے آئی این سی آئی ٹیسٹ سنٹر سے آغاز  کر کے تقریباً 1.45 گھنٹہ کی پرواز مکمل کی۔

 اس کے ساتھ 2 ایف-16 طیاروں کو بھی ریڈار ویلیڈیشن کے لیے شامل کیا گیا۔

 ٹیسٹ کا اہم مرکز مراد اے ای ایس اے رڈار رہا، جسے ترکیے کی اسیلسن نے تیار کیا ہے۔

اس ریڈار نے پرواز کے دوران طویل فاصلے پر موجود ہدف کی شناخت کی اور اسے ٹریک کرتے ہوئے لاک کیا۔

 ڈرون نے اس کے بعد گوک ڈوگن بی وی آر میزائل کا الیکٹرانک لانچ سمیولیشن کیا اور رئیل ٹائم ڈیٹا لنک کے ذریعہ سے ہدف کی حالت اور رفتار کی  انفرمیشن بھیجی، جس کے بعد ایف-16 کو ورچوئلی نیوٹرلائز دکھایا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ وکجیلیما روایتی ڈرون کے مقابلے ایڈوانس تکنیک سے مزین ہے، جس میں کم دکھائی دینے والا سٹیلتھ ڈیزائن، اے آئی پر مبنی آٹونومی اور سپرکروز صلاحیت شامل ہیں۔ ترکیے کا کہنا ہے کہ یہ دشمن کے ایئر سپیس میں گھس کر ہائی ویلیو والے ہوائی اہداف، مثلاً جنگی طیارہ اور اواکس پر حملہ کرنے میں اہل ہے۔ مستقبل میں اس میں اضافی پے لوڈ جوڑ کر اس کا اسٹرائیک ریڈیس 1000 کلومیٹر تک بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے۔