ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں فون کال ، ایران کیساتھ جنگ کے مستقبل پرشدید اختلافات

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں فون کال ، ایران کیساتھ جنگ کے مستقبل پرشدید اختلافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکی  ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایک فون کال کے دوران سخت تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل پر دونوں لیڈران کے درمیان شدید اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ایک گھنٹے کی طویل کال کے دوران، نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا کہ حملوں میں تاخیر ایک غلطی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطلع کیا تھا کہ امریکہ اس ہفتے کے شروع میں ”آپریشن سلیج ہیمر“ کے تحت ایران پر نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔ تاہم، بعد میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے قطری امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید  النہیان سمیت خلیجی رہنماؤں کی اپیلوں کے بعد منگل کو ہونیوالے ان مجوزہ حملوں کو مؤخر کر دیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک، وہائٹ ہاؤس کے حکام اور پاکستان کے ساتھ ملکر تب سے تہران کے ساتھ دوبارہ سفارت کاری کا فریم ورک تیار کرنے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق منگل کو ہونے والی ایک گھنٹے کی طویل کال کے دوران، نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا کہ حملوں میں تاخیر ایک غلطی تھی۔ انہوں نے فوجی کارروائی کو اصل منصوبے کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ”اختلافِ رائے واضح تھا، ٹرمپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے، لیکن نیتن یاہو کو کچھ اور ہی توقع تھی۔ اس گفتگو کی تفصیلات سب سے پہلے ’ایکسیوس ‘ نے رپورٹ کیں۔ ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ہم ایران کے آخری مراحل میں ہیں۔ یا تو ہمارا معاہدہ ہو جائے گا یا پھر ہم کچھ ایسی چیزیں کرنے جا رہے ہیں جو تھوڑی ناگوار ہوں گی۔ نیتن یاہو ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ فوجی نقطہِ نظر کی حمایت کرتے ہیں اور وہ مبینہ طور پر ایران پر حملوں میں لگاتار تاخیر سے مایوس ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے تہران کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔

امریکی ٹی وی سی این این کی طرف سے نقل کئے گئے ایک اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق اعلیٰ اسرائیلی حکام نے بھی نئے حملوں پر زور دیا ہے اور ایران کے اس رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے جسے انہوں نے سفارتی سطح پر وقت ضائع کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ جب ٹرمپ سے نیتن یاہو کے ساتھ ان کی گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صورتحال پر اپنے اختیار کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ وہی کریں گے جو میں ان سے کروانا چاہوں گا“۔

ایران نے بدھ کے دن تصدیق کی کہ وہ پاکستانی ثالثی کے ذرائع سے موصول ہونیوالی امریکہ کی ایک نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو امریکی مؤقف موصول ہوا ہے اور وہ اپنے مطالبات بشمول منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کو برقرار رکھتے ہوئے اسکا جائزہ لے رہا ہے۔