ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دیوقامت "جائنٹ موا"اور معدوم پرندوں کی واپسی ممکن؟ حیران کن دعویٰ

دیوقامت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: سائنس اور بائیوٹیکنالوجی کی دنیا ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ماضی میں صرف فلموں میں دکھائے جانے والے تصورات اب حقیقت بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکا کی بائیوٹیک کمپنی زبردست بایو سائنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دنیا کا پہلا جدید "مصنوعی انڈا"  تیار کر لیا ہے، جو معدوم اور نایاب پرندوں کی نسل کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ مصنوعی انڈا جدید تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا بیرونی حصہ جالی نما خول پر مشتمل ہے جبکہ اندر خصوصی شفاف سلیکون جھلی نصب کی گئی ہے، جو چوزے کو قدرتی ماحول جیسی آکسیجن اور نشوونما کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منفرد ٹیکنالوجی کے ذریعے اب تک 26 صحت مند چوزے کامیابی سے پیدا کیے جا چکے ہیں، جو اس وقت ایک فارم میں پرورش پا رہے ہیں۔

سائنسدانوں کی اگلی منزل دیوہیکل موا  نامی دیو قامت پرندے کو دوبارہ زندہ کرنا ہے، جو کبھی نیوزی لینڈ  میں پایا جاتا تھا۔ یہ پرندہ تقریباً 3 میٹر لمبا ہوتا تھا جبکہ اس کا انڈا سائز میں ایک رگبی بال کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم اس مصنوعی انڈے میں موجود شفاف حصے کے ذریعے جینیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھے گی تاکہ پرندے کی چونچ، جسمانی ساخت اور دیگر خصوصیات کو دوبارہ اصل شکل کے قریب لایا جا سکے۔

اگرچہ بعض سائنسدان ابھی اس ٹیکنالوجی اور ابتدائی نتائج پر مزید شواہد کے منتظر ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اگر یہ تجربہ مکمل کامیاب ہوگیا تو یہ حیاتیاتی سائنس اور جینیاتی تحقیق کی تاریخ میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔