ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ:مون سون سے قبل بڑا الرٹ، اداروں کو ہنگامی اقدامات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ:مون سون سے قبل بڑا الرٹ، اداروں کو ہنگامی اقدامات کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائی کورٹ نے مون سون سیزن کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال غیر معمولی بارشوں کی توقع ہے، اور اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جو شوگر ملز مقررہ وقت تک پلانٹس نصب نہیں کریں گی، انہیں چلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

ذرائع کامزید کہنا ہے کہ دورانِ سماعت عدالت نےپانی اور صفائی کا ادارہ سے واٹر میٹرز کی تنصیب سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے ۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت میں ٹرانسپلانٹ کیے گئے درختوں سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اگر یہ درخت کامیابی سے بڑھ رہے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی تصور ہوگی۔

سماعت کے دوران بتایا گیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹریفک انجینئرنگ اور پلاننگ ایجنسی بارشی پانی کو محفوظ بنانے کیلئے ری چارج ویلز نصب کرنے جا رہے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ زیرِ زمین پانی کے تحفظ کیلئے ری چارج ویلز انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

وکیل محکمہ ماحولیات نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ لگانے والی شوگر ملز کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ ان ملز کو 31 مئی تک مہلت دی گئی ہے۔

سماعت میں پنجاب حکومت کے لا افسر، ایل ڈی اے، پی ایچ اے، ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت عید کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔