سٹی42: اسرائیل میں سیاسی بحران اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب یہ غیر متوقع الزام اچانک سامنے آیا کہ پرائم سکیورٹی ایجنسی شہ بیخ Shen Bet کے سربراہ رونن بار 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل کے جنوبی دیہات، فوج کی پوسٹوں اور نووا میوزک فیسٹیول پر اچانک حملے سے کئی گھنٹے پہلے اس حملے کے بارے میں جانتے تھے۔ یہ الزام ایک "اسرائیلی اہلکار" کی طرف سے سامنے اای جس کے بارے مین قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ یہ "اسرائیلی اہلکار" خود وزیراعظم نیتن یاہو ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات یہ ہیڈ لائن اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی، 'اسرائیلی اہلکار' جس کے متعلق خیال ہے کہ یہ خود نیتن یاہو ہیں، اس سازش کو آگے بڑھاتا ہے کہ رونن بار حماس کے حملے سے پہلے جانتا تھا لیکن اسے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کی
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو (بائیں) اور شن بیٹ کے سربراہ رونن بار، 4 اپریل 2023 کو۔ (کوبی گیڈون/جی پی او/فائل)
یہ الزام عین اس رات سامنے آیا ہے جب وزیراعظم نیتن یاہو کی فرمائش پر ان کی اتحافی حکومت کی کابینہ شہ بیخ Shen Bet کے سربراہ رونن بار کی برطرفی کے بارے میں غور کرنے کے لئے کئی دنوں کے تردد کے بعد اجلاس میں بیٹھی تھی۔
ایک "اسرائیلی اہلکار" نے انٹیلی جنس کے سربراہ پر الزام لگایا کہ اس نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا، حالانکہ، اس اہلکار کے دعوے کے مطابق، رونن بار کو پہلے سے معلوم تھا کہ ایسا (حملہ)ہونے والا ہے۔
اس اہلکار نے مزید کہا، "رونن بار نے اپنی برطرفی کے معاملہ سے نمٹنے کے لیے [جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات] حکومتی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کو ترجیح دی، "صرف اس لیے کہ وہ جواب دینے سے ڈرتا تھا"،"
اسرائیل کے نیوز چینل، چینل 12 نے اس الزام لگانے والے "سرکاری اہلکار" کو خود وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا، اس "سرکاری اہلکار" نے کہا، کہ (رونن بار خاص طور سے اس سوال کا جواب دینے سے خوفزدہ ہیں کہ ) "اور خاص طور پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ: جب آپ کو حماس کے حملے کے ہونے سے کئی گھنٹے پہلے پتہ چل گیا تھا، کیوں آپ نے کچھ نہیں کیا اور کیوں وزیر اعظم کو فون کرنے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا؟"
اس "سرکاری اہلکار" نے الزام لگایا، "اگر رونن بار نے اپنا کردار ادا کیا ہوتا جیسا کہ وہ اب اپنی ملازمت سے چمٹے ہوئے ہیں، تو ہم 7 اکتوبر (حماس کے حملے) تک نہ پہنچ پاتے،"
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ نیتن یاہو نے بڑی ناکامی کی ذمہ داری سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ اس وقت بیدار نہیں ہوئے تھے جب حماس کے حملے اور قتل عام سے چند گھنٹے قبل اسرائیل کی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے آنے والے حملے کے اشارے مل رہے تھے۔
پس منظر
حماس کے حملے کے بارے میں پیشگی معلومات ہونے کا بے بنیاد الزام 7 اکتوبر کے فوراً بعد سے اسرائیل کے سکیورٹی سربراہوں کے خلاف، نتن یاہو کے حامی سازشی تھیورسٹوں کی طرف سے آن لائن لگایا گ جاتا رہا ہے، لیکن وزیر اعظم کی طرف سے براہ راست یہ الزام کبھی نہین آیا۔
اس دوران اسرائیل کی فوج آئی ڈی ایف کے سربراہ نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کو روکنے کے لئے فوج کی داختی انویسٹیگیشن مکمل کروائی جس میں انہوں نے سرحدی چوکیوں کی حفاظت، سارے جنوبی اسرائیل میں انتہائی قلیل فوج کی ڈپلائمنٹ، غزہ میں حماس کی نقل و حرکت کو بھانپنے میں ناکامی سمیت تمام ناکامیوں کا تفصیل سے اعتراف کیا گیا لیکن یہ واضح طور پر بتایا گیا کہ اس حملے کے متعلق کسی کو پیشگی علم ہونے کی کہانی بے بنیاد ہے، کسی کو پہلے سے کچھ علم نہیں تھا۔
اب جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو کو انٹیلی جنس چیف رونن بار کو بہر صورت برطرف کر دینے کا مرحلہ درپیش ہے تو اچانک ایک "سرکاری اہلکار" نے بار پر سات اکتوبر حملے کے متعلق پہلے سے جاننے کا الزام لگا دیا، اس "اسرائیلی اہلکار" نے رونن بار پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ "اپنی نشست سے چمٹے رہے جبکہ یرغمالیوں کے خاندانوں کا بے شرمی سے استحصال کیا اور سیاسی طور پر اپنے عہدے کا استعمال فضول، بے بنیاد تحقیقات 'فیبریکیٹ' کرنے کے لیے کیا۔"
"اسرائیلی اہلکار" کا یہ شعلہ بار بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب رونن بار نے آج رات پہلے ایک خط میں نیتن یاہو پر اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔