سٹی 42: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے مفاد میں ہیں اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ ملک ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ جب امریکا نے جوہری معاہدے پر دستخط کا مطالبہ کیا تو ایران نے معاہدے پر دستخط بھی کیے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ مذاکرات قطر اور پاکستان کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور قطر کے وفود بطور ثالث فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔