ویب ڈیسک: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کےاحتجاجی مارچ کے دوران پولیس کارروائی کے بعد ملک کے بیشتر بڑے اخبارات نے واقعے کو نمایاں کوریج دی، تاہم زخمی مظاہرین کے مؤقف کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔صرف چند اخبارات نے مظاہرین کے بیانات اور انکے تحفظات کو نمایاں انداز میں شائع کیا۔احتجاج مکمل طور پر پُرامن تھا، لیکن سیکیورٹی فورسز کی مداخلت کے بعد حالات بگڑ گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے گزشتہ روز ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے برسائے گئےاور پرامن احتجاج کے بارے منگل کو شائع ہونیوالے کئی بڑے اخبارات کے پہلے صفحات پر زخمی مظاہرین کی آوازوں کو نمایاں جگہ نہیں دی گئی۔ زیادہ تر انگریزی اور ہندی اخبارات نے اپنے صفحۂ اول پر اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ پیر کو مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کی۔ اخبارات نے ان واقعات کی ترتیب بیان کی جن کے نتیجے میں احتجاج دہلی کے مرکزی علاقوں تک پھیل گیا۔ تاہم’’ دی انڈین ایکسپریس‘] نے اپنے پہلے صفحے پر ایک خبر شائع کی جس میں زخمی مظاہرین کے بیانات بھی شامل تھے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہزاروں مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ مسابقتی امتحانات کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مہم کی جانب سے پیر کو، جب پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا، پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگرچہ پولیس نے احتجاجی قیادت کو مارچ سے روک دیا، لیکن کچھ مظاہرین رکاوٹیں عبور کرکے پارلیمنٹ کے قریب اور دہلی کے دیگر مرکزی علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ’’اسکرول‘‘ نے متعدد مظاہرین سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ بھاری پولیس نفری کے باعث انہیں محدود کر دیا گیا تھا۔ ایک مظاہر نے کہا کہ پولیس نے پہلے انہیں ’’بیٹھ جانے‘‘ کو کہا اور پھر اچانک لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ اتر پردیش سے آئے ایک مظاہر کے مطابق، احتجاج مکمل طور پر پُرامن تھا، لیکن سیکوریٹی فورسیز کی مداخلت کے بعد حالات بگڑ گئے۔

گزشتہ روز ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے پرامن احتجاج کے موقع پر مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کی گیا، جس پر منگل کے روز شائع ہونیوالے اخبار’’ دی انڈین ایکسپریس‘‘نے اپنی سرخی میں لکھا کہ’’مظاہرین دہلی کے قلب تک پہنچ گئے، مارچ روکنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ‘‘اخبار نے یہ بھی نمایاں طور پر شائع کیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں نے پیر کو مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پیش کئے۔ اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے نمائندوں کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ مہم کے ترجمان آشوتوش رانکا، جو اس ملاقات میں شریک تھے، نے بعد میں ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ’’یہ ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ آئندہ ہم اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گے جب تک وہ خود احتجاجی مقام پر نہ آئیں۔ اگر وہ ہمارے وقت کی قدر نہیں کرتے تو ہم بھی ان کے وقت کی قدر نہیں کریں گے ‘‘۔ تاہم منگل کے روز دی انڈین ایکسپریس کے پہلے صفحے پر رانکا کا یہ بیان شامل نہیں تھا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ سڑکوں پر ہونے والا ہنگامہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا، میں بھی گونجتا رہا، جہاں پیر کو بار بار کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔

تصویر بشکریہ بی بی سی نیوز۔۔
احتجاج کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز نے صفحۂ اول پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم، سماجی کارکن سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے اعلان، اور جے پی نڈا کی احتجاجی نمائندوں سے ملاقات پر توجہ دی۔ دی ہندو نے اپنے پہلے صفحے پر لکھا کہ پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اخبار کے مطابق38زخمیوں کو لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج جبکہ 65 کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دن 60 مظاہرین اور118سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ٹائمز آف انڈیا نے دیگر بڑے انگریزی اخبارات کے مقابلے میں احتجاج کو اپنے پہلے صفحے پر کم جگہ دی۔ اس کی سرخی میں کہا گیا کہ پولیس نے پارلیمنٹ مارچ کو روک دیا جبکہ جے پی نڈا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ احتجاج کی تفصیلی رپورٹ اخبار کے چوتھے صفحے پر شائع کی گئی۔ دینک بھاسکر نے اس احتجاج کو گزشتہ14برسوں میں پارلیمنٹ کے باہر ہونیوالا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا اور اس کا موازنہ2012 میں نربھیا اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد دہلی میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں سے کیا۔دینک جاگرن نے لکھا کہ احتجاج کی وجہ سے دہلی کی زندگی مفلوج ہو گئی۔ اس کے علاوہ ’’نو بھارت ٹائمز ‘‘نے بھی اپنے صفحۂ اول پر اس پیش رفت کا ذکر کیا اور لکھا کہ جیسے جیسے احتجاجی مقام پر بھیڑ بڑھتی گئی، مرکزی حکومت نے کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر دیا۔