احمد منصور : چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گردی کے ذریعے ہمارے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں۔
یہ بات چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی علماء مشائخ کانفرنس سے اپنے اہم خطاب میں کہی۔ اس قومی کانفرنس کا انعقاد 10 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ نے بھرپور شرکت کی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملک کو درپیش چیلنجز، دہشتگردی، قومی سلامتی کے امور، اقوامِ عالم میں پاکستان کے ابھرتے کردار، جنگی تیاریوں اور علم کی اہمیت پر مفصل اور از حد مدلل گفتگو کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اپناواضح نقطۂ نظرپیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اسلامی ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطاکیا، ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کاآپس میں ایک گہراتعلق اور مماثلت ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا قیام کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر رمضان کے بابرکت مہینے میں ہوا، دونوں ریاستوں میں مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ رب کائنات نے انھیں خادم الحرمین بنانا تھا اور ہمیں محافظ الحرمین بنانا تھا۔
یہ فتح ہماری نہیں تھی، اللہ کی مدد آئی تھی، سالارِ اعظم کا اعتراف
سید عاصم منیر نے قوم کے چوٹی کے علما اور روحانی ہستیوں کے ساتھ اس اہم شئیرِنگ میں اپنے ذاتی تجربے کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے غیر فوجی الفاظ میں بتایا کہ چھ مئی کی رات مساجد پر روایتی دشمن کے شبخون کے بعد کیا ہوا تھا۔ انہوں نے چھ مئی سے دس مئی تک نوے گھنٹوں کی جنگ مین پاکستان کی دنیا کو حیران کر دینے والے انتہائی غیر معمولی فوجی کامیابیوں کو نَصْرٌ مِّن اللَّهِ کی تفسیر قرار دیا اور بتایا کہ آپریشن بنیان المرصوص میں اللّٰہ کی مدد آئی، ہم نے اللہ کی مدد آتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم اور فتوی نہیں دے سکتا، افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشتگردی کے ذریعے ہمارے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افسوس کے ساتھ کہا، ہمارے احسانات کا افغان طالبان یہ "صلہ" دے رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی ریاست کی ٹھوس پوزیشن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی و فکری میراث اور قلم کی طاقت کو چھوڑ دیا، وہ زبوں حالی کا شکار ہو گئیں۔