پنجاب اسمبلی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پنجاب اسمبلی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

( قذافی بٹ ) پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے جیلوں میں فون بوتھوں کی تعداد بڑھانے پراتفاق کر لیا جبکہ حاملہ خواتین کے ساتھ شیرخوار بچوں کورکھنے کے معاملے پرسپیکر نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اقدامات کی ہدایت کر دی ۔

پنجاب اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی آمد پراپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی تو حکومتی بنچوں سے بھی جوابی نعرے بازی شروع ہوگئی، جس پر سپیکر کو مداخلت کرنا پڑی۔ ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق شروع ہوئی تو ایوان کو بتایا گیا کہ حاملہ خواتین کے ساتھ شیرخوار بچوں کو جیلوں میں رکھا جا رہا ہے۔ خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں کو جیلوں سے باہر رکھنے کا حکم دے چکی ہے۔ اس پر اسپیکر نے وزیر قانون کو سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں اقدامات کی ہدایت کی۔

ایوان میں حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق کیا کہ جیل میں فون بوتھ کی تعداد بڑھائی جائے۔ خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ غریب قیدیوں کو مفت فون کال کی سہولت دی جائے۔ ایوان میں بار بار ضمنی سوال کرنے کا بھی معاملہ اٹھا تو سپیکر نے ضمنی سوالات کی تعداد تین تک مقرر کر نے کی تجویز دے دی۔

ایوان کو بتایا گیا کہ صوبے کی 41 جیلوں میں 264 قیدی ایڈز اور 647 ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، 232 قیدیوں کا علاج جاری ہے۔ 2009 سے 2018 تک صوبے کی جیلوں میں 23 لاکھ 41 ہزار قیدی لائے گئے۔ گزشتہ دس سالوں میں اکیس ہزار قیدی مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے۔