(ویب ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے ٹیٹرا پیک میں شراب (نشہ پانی) کی فروخت کے خلاف دائر درخواست پر مرکز اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’کیمونٹی اگینسٹ ڈرنکن ڈرائیونگ‘‘ نامی تنظیم کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ شراب کی پیکنگ سے متعلق ضوابط میں ابہام کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔ ٹیٹرا پیک پر صحت سے متعلق انتباہ نہیں چھاپا جا رہا اور پیکٹ پر پھلوں کی تصاویر لگا کر اسے جوس کی طرح ظاہر کیا جا رہا ہے۔درخواست گزار نے اس طریقے سے فروخت کی جانے والی شراب پر پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔
چند روز قبل اسی نوعیت کی ایک اور مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں اتر پردیش میں ٹیٹرا پیک میں فروخت ہونیوالی دیسی شراب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس میں اتر پردیش حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت نئی ایکسائز پالیسی کے تحت ٹیٹرا پیک میں دیسی شراب کی فروخت لازمی قرار دی گئی ہے۔
یہ درخواست 16 اپریل کو بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے پیش ہوئی تھی، جس پر چیف جسٹس نے عرضی گزار سے کہا تھا کہ وہ براہ راست عدالت سے رجوع کرنے کے بجائے اپنی شکایت کیلئے ریاستی حکام سے رابطہ کرے۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ ٹیٹرا پیک میں فروخت ہونے والی شراب آسانی سے تعلیمی اداروں تک پہنچ رہی ہے، جس کے باعث جرائم اور شراب کے غلط استعمال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے دیسی شراب بوتلوں میں فروخت کی جاتی تھی، لیکن نئی ایکسائز پالیسی کے تحت اسے ٹیٹرا پیک میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حفاظتی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور ملاوٹ کو روکا جا سکے۔