سٹی42: برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی مذاکرات معطل کر دیئے ہیں اور مغربی کنارے کے آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ابھی سیٹلرز پر عائد کی جا رہی پابندیوں کی نوعیت سامنے نہیں آئی تاہم اسے انگلینڈ کی جانب سے اسرائیل کو ویسٹ بینک سیٹلمنٹس کے متعلق پالیسی بدلنے پر آمادہ کرنے کے لئے ایک سخت اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔
انگلینڈ کی طرف سے سیٹلرز پر سینکشنز کا اعلان انگلینڈ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کی سیٹلرز کے متعلق پالیسی بدلنے، غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد کے داخلہ میں رکاوٹوں کو ہٹانے اور غزہ جنگ بند کرنے کے مطالبہ کے صرف ایک دن بعد ہی سامنے آیا ہے۔
انگلینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ آزادانہ تجارت کے مذاکرات معطل کر رہی ہے اور غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر احتجاج کرتے ہوئے مغربی کنارے کی بستیوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
منگل کے روز انگلینڈ کیا یہ سخت تادیبی اقدام برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ سے نمٹنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اس کے اقدامات کی مذمت کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
انگلینڈ کے سکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے آج منگل کے روز کہا کہ برطانیہ کا موجودہ تجارتی معاہدہ نافذ العمل ہے لیکن حکومت اسرائیلی حکومت کے ساتھ آزادانہ تجارت پر بات چیت جاری نہیں رکھ سکتی کیونکہ اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ میں متشدد پالیسیوں کی پیروی کر رہا ہے۔
ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے تشدد کا مسلسل سلسلہ (انگلینڈ سے) کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
لیمی نے کہا، "اسرائیلی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مداخلت کرے اور ان جارحانہ کارروائیوں کو روکے۔" "عمل کرنے میں ان کی مسلسل ناکامی فلسطینی برادریوں اور "دو ریاستی حل" کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔"
انگلینڈ کی حکومت کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے منگل کے روز اسرائیل پر اپنی تنقید کو تیز کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بچوں کی تکالیف کی سطح "بالکل ناقابل برداشت" ہے اور جنگ بندی کے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے۔