سٹی42: انگلینڈ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کو وارننگ دی ہے کہ اگر اسرائیل لڑائی بند نہ کی اور غزہ کئلئے بھیجی جانے والی امداد میں اضافہ نہ کیا تو تینوں ملک اسرائیل کے خلاف "ٹھوس اقدامات پر مشتمل ایکشن" کریں گے۔ تینوں ملکوں نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل سے اغوا کئے گئے تمام افراد کو فوراً رہا کرے۔
اسرائیل جنگ روکے اور غزہ کی امداد بحال کرے
انگلینڈ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے پیر کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی صورتحال سے نمٹنے (میں تساہل) کی مذمت کی گئی اور اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر غزہ انکلیو میں فوجی کارروائی روک دے اور امداد کو غزہ کے اندر جانے کی اجازت دے، ان تینوں ممالک نے وارننگ دی ہہ اگر اسرائیل انکار کرتا ہے تو "جواب میں مزید ٹھوس اقدامات" کیے جائیں گے۔

تینوں ملکوں کے رہنماوں نے غزہ میں محدود مقدار میں امداد کی اجازت دینے کے کل اتوار کے روز سامنے آنے والےاسرائیل کے اعلان کو "مکمل طور پر ناکافی" قرار دیا اور کہا کہ غزہ کی شہری آبادی کی مدد کرنے میں اسرائیل کی ناکامی "ناقابل قبول ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔"
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو "انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق امداد کی فراہمی کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مشغول ہونا چاہیے۔"
جبری نقل مکانیاور گھناونی زبان کا استعمال قابلِ قبول نہیں
تینوں ممالک انگلینڈ، کینیڈا اور فرانس غزہ کے شہریوں کی "مستقل جبری نقل مکانی" کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہیں، اور اسرائیلی حکومت کے ارکان کو "گھناؤنی زبان استعمال کرنے پر سرزنش کرتے ہیں... یہ وارننگ دیتے ہیں کہ غزہ کی تباہی پر مایوسی میں، شہری نقل مکانی شروع کر دیں گے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم حماس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 7 اکتوبر 2023 سے یرغمال بنائے گئے بقیہ افراد کو فوری رہا کرے۔‘‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل کو 7 اکتوبر کو ایک گھناؤنے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف اسرائیلیوں کے دفاع کے اسرائیل کے حق کی حمایت کی ہے۔ لیکن یہ ایسکلیشن مکمل طور پر غیر متناسب ہے"۔
مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر فلسطینی ریاست کی عملداری کیلئے خطرہ
تینوں اقوام مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کی بھی مخالفت کرتی ہیں، جس سے "فلسطینی ریاست کی عملداری کو نقصان پہنچے گا" اور ان کا کہنا ہے کہ اگر بستیوں کو روکا نہیں گیا تو وہ "مزید کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے"، اس کارروائی میں "اسرائیل پر ٹارگٹڈ پابندیاں" نافذ کرنا شامل ہے۔
مصر، قطر امریکہ کی تجاویز طویل مدتی سیاسی حل کیلئے بہترین حل
تینوں اتحادی ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ، قطر اور مصر کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اور کہا کہ یہ کوششیں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے ساتھ ساتھ "طویل المدتی سیاسی حل" تنازعہ کے حل کے لیے بہترین حل پیش کرتی ہیں۔
دو ریاستی حل کیلئے پاتھ وے
تینوں ملکوں نے یقین ظاہر کیا کہ امریکہ، قطر اور مصر کی یہ کوششیں"غزہ پر حماس کے کنٹرول کو ختم کرنے اور "دو ریاستی حل کے لئے پاتھ وے" بنانے کے لئے بھی مفید ہیں اور نیویارک میں جون میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی کانفرنس کے مقاصد کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے ساتھ کام جاری رکھیں گے
تینوں ملکوں کے لیڈروں نے مشترکہ بیان مین مزید کہا ہے کہ "ہم فلسطینی اتھارٹی، علاقائی شراکت داروں، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کرعرب منصوبے کی تعمیر کی بنیاد پر غزہ کے مستقبل کے انتظامات پر اتفاق رائے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔"
بیانمین مزید کہا گیا کہ جون میں ہونے والی کانفرنس کا مقصد اس معاملے پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔