ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہائیکورٹ ججز کی تقرری: جوڈیشل کمیشن نے 7 رکنی انٹرویو کمیٹی منظور کر لی، اختلاف بھی سامنے آگیا

ہائیکورٹ ججز کی تقرری: جوڈیشل کمیشن نے 7 رکنی انٹرویو کمیٹی منظور کر لی، اختلاف بھی سامنے آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امانت گشکوری: ہائیکورٹس میں ججز کی تقرری کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے امیدواروں کے انٹرویوز کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے قواعد اکثریتی رائے سے منظور کر لیے، تاہم اس معاملے پر کمیشن کے اندر اختلافی آراء بھی سامنے آئیں۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججز انٹرویو رولز کی منظوری دی گئی، جس کے تحت سات رکنی انٹرویو کمیٹی امیدواروں کے انٹرویوز لے کر اپنی سفارشات جوڈیشل کمیشن کو ارسال کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور متعلقہ ہائیکورٹ کے تین ججز شامل ہوں گے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک، ایک نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل پاکستان اور پاکستان بار کونسل کا ایک رکن بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی کی سفارشات حتمی نہیں ہوں گی اور جوڈیشل کمیشن ان سفارشات کا پابند نہیں ہوگا۔ کمیشن کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کثرتِ رائے سے حتمی فیصلہ کرے گا۔

اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منیب اختر نے انٹرویو کمیٹی میں بار کے نمائندے کی شمولیت پر اختلافی نوٹ دیا۔ دوسری جانب جوڈیشل کمیشن کے 35 رکنی اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین سینیٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر نے شرکت سے بائیکاٹ کیا۔

ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں 10 نئے ججز کی تقرری کی جائے گی اور اس سلسلے میں نامزدگیاں 4 جولائی تک طلب کر لی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ججز کی تقرری بھی متوقع ہے، جبکہ سندھ ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ میں بھی ججز کی تعیناتی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

قانونی حلقوں کے مطابق نئے قواعد عدالتی تقرریوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔