ملک اشرف:بجلی کے بلوں میں کیپیسٹی چارجز کی وصولی کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں کیپیسٹی چارجز کی وصولی آئین سے متصادم ہے، جبکہ صارفین سے ایسی بجلی کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں جو نہ تو پیدا کی گئی اور نہ ہی استعمال میں لائی گئی۔
درخواست گزار نے وفاقی اداروں نیپرا، پی پی آئی بی، سی پی پی اے اور وفاقی حکومت کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ غیر استعمال شدہ بجلی کے چارجز وصول کرنا غیر قانونی اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
اپیل میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سنگل بینچ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے جس میں درخواست خارج کی گئی تھی۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی صارفین سے غیر پیدا شدہ اور غیر استعمال شدہ بجلی کے چارجز کی وصولی کو روکا جائے۔
درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں اور کیپیسٹی چارجز کے پورے نظام کا آئینی جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔