ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے ایک مقدمے کی تفتیش میں غیر معمولی تاخیر اور میڈیکل رپورٹ پر حتمی رائے نہ آنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او سرگودھا اور متعلقہ تفتیشی افسران کو طلب کر لیا ہے۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود میڈیکل رپورٹ پر حتمی رائے دستیاب نہ ہونا تشویشناک ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ 18 مئی 2025 کو درج ہوا تھا، تاہم تاحال زخمیوں کی چوٹوں سے متعلق حتمی میڈیکل رائے پیش نہیں کی جا سکی۔ حکم نامے کے مطابق میڈیکل معائنے کے باوجود استغاثہ کو حتمی رپورٹ موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث مقدمے کا ٹرائل بھی شروع نہیں ہو سکا۔
عدالت نے مقدمے میں تاخیر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے صہیب اشرف، انچارج انویسٹی گیشن اور دیگر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او سرگودھا کو 24 جون کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مقدمے میں ہونے والی تاخیر کی وجوہات اور تفتیشی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے تفتیشی عمل میں غیر ضروری تاخیر قابل قبول نہیں اور ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی بھی زیر غور لائی جا سکتی ہے۔