ویب ڈیسک: بھارت میں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی، جہاں مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز کے موقع پر ہزاروں طلبہ اور نوجوان نئی دہلی میں سڑکوں پر نکل آئے۔
بھارتی میڈیا اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی کال "کاکروچ جنتا پارٹی"کی جانب سے دی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تحریک ابتدا میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر سامنے آئی اور بعد ازاں احتجاجی علامت بن گئی۔رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جبکہ انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کیں اور عوامی اجتماعات پر پابندیاں نافذ کیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اور کئی مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں، امتحانی نظام میں اصلاحات کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی پولیس کارروائی پر تنقید کی ہے۔رپورٹس کے مطابق بنگلورو، ممبئی اور گوا سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ماحولیات کے کارکن سونم وانگچک کی جانب سے بھی احتجاجی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا، جبکہ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں جنتر منتر سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن سونم وانگچک کی نوجوانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اکیس روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ پولیس نے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے زبردستی صفدرجنگ اسپتال منتقل کردیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی بے روزگاری، معاشی دباؤ اور عوامی احتجاج حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنتے جا رہے ہیں،احتجاجی مظاہروں نے بھارتی سیاست میں بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔بھارتی معاشرے میں موجود اندرونی اختلافات اور تقسیم مزید نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے-