ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے رشتے کے تنازعے پر اپنی بیوی، بیٹی سمیت چار افراد کو قتل کرنے والے مجرم محمد یاسین کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل عدالت کا فیصلہ برقرار رکھ لیا ہے۔ عدالت نے مجرم کو چار مرتبہ سزائے موت سنانے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرم محمد یاسین کی اپیل پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل منیر احمد سیال نے مجرم کی بریت کی اپیل کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیے، جبکہ اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد ادریس رفیق بھٹی اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہارون الرشید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مجرم محمد یاسین نے رشتے کے تنازعے پر فائرنگ کر کے اپنی بیوی ممتاز بی بی، بیٹی سونیہ، وقاص اور الیاس کو قتل کیا جبکہ ایک شخص آصف کو شدید زخمی کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ مصطفی آباد، ضلع قصور میں 18 نومبر 2021 کو درج کی گئی تھی۔پراسیکیوشن کے مطابق چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت ہوتی ہے جبکہ زخمی آصف بھی واقعے کا عینی شاہد اور غیر جانبدار گواہ ہے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ گواہوں کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں اور پولیس تفتیش، میڈیکل رپورٹس اور عینی شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجرم ہی واردات کا مرتکب ہوا۔لاء افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیشن کورٹ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مجرم محمد یاسین کو چار مرتبہ سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ انہوں نے استدعا کی کہ مجرم کی بریت کی اپیل خارج کی جائے۔دوسری جانب وکیل صفائی نے مجرم کی بریت کے لیے دلائل دیے، تاہم وہ عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ دو رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت نے مقدمہ درج ہونے کے تقریباً پانچ سال بعد مجرم کو دی گئی سزائے موت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا۔