(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کی حکومت نے رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمان ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان سرکاری ملازمین رمضان کے مہینہ میں دفاتر بند ہونے سے ایک گھنٹہ قبل چھٹی کر سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے بہت خاص ہے۔ اس مہینے کے دوران مسلمان ارکان روزہ رکھتے ہیں. اب رمضان المبارک کے دوران چھتیس گڑھ حکومت نے مسلم ملازمین کو بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مسلم سرکاری ملازمین کو رمضان کے دوران ایک گھنٹہ پہلے نکلنے کی اجازت ہوگی۔اس فیصلے کے بعد، حکومت کا موقف واضح ہے کہ مذہبی آزادی اور کام کے درمیان توازن قائم کیا جانا چاہیے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملازمین اپنے عقیدے پر بھی عمل کریں اور کام کاج بھی درست طریقے سے انجام دے سکیں ۔ مستقبل میں، چھتیس گڑھ حکومت دیگر برادریوں کے لیے بھی اسی طرح کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل تلنگانہ حکومت نے بھی مسلمان ملازمین کیلئے جاری کردہ ایک حکم جاری کیا تھا جس کہا گیا تھا کہ ریاست کے تمام مسلم ملازمین بشمول اساتذہ، کنٹریکٹ اور آؤٹ سورسنگ عملہ، بورڈ، کارپوریشن اور پبلک سیکٹر کے ملازمین شام 4 بجے اپنے دفاتر یا اسکولوں سے نکل سکیں گے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش حکومت نے بھی مسلمان سرکاری ملازمین کو بھی ایک گھنٹہ پہلے اپنے دفاتر چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔