ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

" کیا فیصلہ ہوا؟" عمران نے جج کے جانے کے بعد لاپروائی سے پوچھا

Bushra Bibi and Imran Khan, City42 , Adiala Jail, Tosha Khana 2 Case , Salman Safdar Advocate
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پی ٹی آئی کے بانی کے حامی یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ توشہ خانہ 2: سزا سننے کے بعد عمران خان کا ردِعمل کیا تھا؟، اب کئی شخصیات یہ بتا چکی ہیں کہ عدالت مین فیصلہ سنائے جانے کے وقت کیا ہوا تھا۔
فیصلے کے وقت عمران خان اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے لیکن عمران خان جج کے بار بار بلانے کے بعد بھی  اپنی اہلیہ کے پاس سے اٹھ کر روسٹرم پر نہیں گئے، جب جج فیصلہ سنا کر چلے گئے تب عمران خان نے پوچھا کہ فیصلہ کیا ہوا ۔
توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود عمران خان کے ردِعمل اور بعد ازاں سزا کے خلاف قانونی حکمت عملی سے متعلق کئی افراد نے مختلف تفصیلات بتائی ہیں۔ ان سب میں یہ بات مشترک ہے کہ عمران خان اس فیصلے سے حیران یا پریشان نہیں ہوئے۔ 

توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نےعمران کی بہن  علیمہ خان کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے فیصلے پر عمران خان ہمیشہ کی طرح مسکرا رہے تھے۔

سلمان صفدر نے کہا،  جیسا پیٹرن سزاؤں کا ہے ویسا ہی عمران خان کا بھی ہے اور وہ بالکل حیران نہیں تھے۔

فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے

سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے،  تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ون اور سائفر کیس کی طرح اس مقدمے کی سماعت میں بھی متعدد سقم موجود ہیں۔

 وکیل سلمان صفدر کے مطابق وہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ہدایت پر اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں انتہائی مشکل حالات میں رکھا گیا ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ گزشتہ رات آٹھ بجے قانونی ٹیم کو اطلاع دی گئی کہ صبح نو بجے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی۔  دھند کے باعث موٹروے بند تھی اور موسم کی خراب صورتحال کے باوجود وہ لاہور سے اڈیالہ جیل پہنچے۔

سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے بتایا، عمران خان اس بات پر کافی حیران ہوئے کہ جج نے ملزمان اور وکلا کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا، جبکہ ان کے بقول جج نے آج دلائل مکمل کرنے کے بجائے پہلے سے تیار 59 صفحات پر مشتمل فیصلہ ساتھ لایا۔

 فیصلہ عمران اور بشریٰ کی موجودگی میں سنایا گیا
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایک جیل اہلکار نے بتایا کہ فیصلے کے وقت عمران خان اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔ اہلکار کے مطابق جج نے تین مرتبہ عمران خان کو ڈائس پر آنے کی ہدایت کی تھی، تاہم سابق وزیر اعظم نے ڈائس پر جانے سے انکار کر دیا۔

جیل اہلکار کا کہنا تھا کہ فیصلے کے اعلان کے دوران عمران خان بشریٰ بی بی سے گفتگو میں مصروف رہے۔

اہلکار کے مطابق جب جج فیصلہ سنا کر عدالت سے روانہ ہو گئے تو عمران خان نے استفسار کیا کہ کیا فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ 17 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے تو یہ سن کر عمران خان مسکرا دیے۔