ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کمسن لڑکی سےمبینہ شادی کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی انویسٹیگیشن سٹی منزہ کرامت کی کارکردگی پر اظہار ناراضگی 

کمسن لڑکی سےمبینہ شادی کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی انویسٹیگیشن سٹی منزہ کرامت کی کارکردگی پر اظہار ناراضگی 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : اندرون بھاٹی کی رہائشی نویں کلاس کی طالبہ کے اغو کا معاملہ , لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی انویسٹیگیشن سٹی منزہ کرامت کی کارکردگی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے شادی کرنے والی کمسن بچی کو پیر تک دارالامان بھجوانے کا حکم دے دیا ، عدالت نے مقدمہ کی تفتیش کسی سنئیر افسر سے کروانے اور  ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو تفتیش کی  سپرویزن کرنے کرکے 23 دسمبر کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم  دے دیا ۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے شہری دانش گلزار کی درخواست پر سماعت کی ،ایس ایس پی انویسٹیگیشن محمد نوید ، ایس پی انویسٹیگیشن سٹی منزہ کرامت پنجاب حکومت کے وکیل کے ہمراہ پیش   ہوئے , درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ رفاقت ڈوگر اور ذوالفقار معظم پیش ہوئے , جسٹس علی ضیاء باجوہ نے نکاح پڑھانے والے مبینہ  وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کون ہیں، نکاح پڑھانے والے شخص نے جواب دیا میں نکاح خواں ہوں ، عدالت نے استفسار کیا پرجسٹرار ہو یا نہیں  نکاح نکاح نامے کا پرت کہاں سے لیا ؟،نکاح تو کوئی بھی پڑھا سکتا ہے، نکاح پڑھا ے والے شخص نے جواب دیا نکاح نامہ کا پرت اردو بازار سے لیا تھا ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دئیے اردو بازار سے لیا گیا نکاح نامہ کا پرت تو چل ہی نہیں سکتا ، اردو بازار سے پرت لے کر لوگوں کی لڑکیوں کا ستیا ناس کررہے ہیں ، فاضل جج نے نکاح پڑھانے والے شخص سے استفسار کیا کہ تم کرتے کیا ہو ؟ نکاح پڑھنے والے نے جواب دیا میں وکیل ہوں ، نکاح بھی پڑھا لیا کرتا ہوں ، عدالت کے وکالت لائسنس کے متعلق سوالات پر نکاح خواں تسلی بخش جواب نہ دے سکا ،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اگر یہاں  کوئی مرد یا خاتون  پولیس افسر آئے ، عدالت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،  ایس پی انویسٹیگیشن سٹی جب بھی عدالت آئیں تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں تھیں ، ایس پی انویسٹیگیشن سٹی کی  آج بھی  عدالت میں ہہی صورت حال ہے،آئی جی نے بتایا نہیں کہ پولیس افسران کے عدالت میں پیش ہونے سے قبل تیاری بھی کرنی ہے یانہیں ،جس نے جعلی پرت پر جعلی نکاح پڑھایا ،۔ اس پر ہر تو مقدمہ کا حکم دیں گے،  ایس ایس پی انویسٹیگیشن محمد نوید نے جواب دیا انچارج انویسٹیگیشن سمیت  متعلقہ سب کو بلایا ، اس کیس بارے تفصیل حاصل کی ، جسٹس  علی ضیاء باجوہ نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ  خاتون ایس پی انویسٹیگیشن  ہے ، اس لئے اس سے کچھ سوال  نہ کریں ، یہ تو نہیں ہوسکتا ،کیا فائدہ ڈویژنل ہیڈ کو بلایا جائے تو پھر بھی آپ کو بلانا پڑے  ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ڈی جی لوکل گورنمنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کمسن بچیوں سے شادی کرنے والے کتنے لوگوں کے خلاف مقدمات کئیے ، یہ بھی بتائیں کہ لاہور میں کتنے رجسٹرار ہیں ڈی جی لوکل گورنمنٹ نے جواب دیا ، لاہور میں 274 یونین کونسلز ہیں ، ہر ایک میں تقریباً پندرہ نکاح رجسٹرار ہیں ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریماکس دئیے نکاح رجسٹرار سے حاصل کئے گئے پرت پر ہی نکاح پڑھایا جائے، جس نے جنس سن بچی سے نکاح کیا ہے وہ کہاں ہے،  ایس ایس پی نے جواب دیا وہ تھانے رکھا ہوا ہے، عدالت حکم دے ، پیش کردیں گے ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے حکم دیا اس لڑکی کو پیر تک دارالامان بھیج  دیں ، لڑکی نے جواب دیا  میں دارلامان نہیں جانا چاہتی ، جسٹس  علی ضیاء باجوہ نے شادی کرنے والی لڑکی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا  آپ کو سڑک پر تو نہیں چھوڑ سکتے ، یہ نکاحِ فعال نہیں کرتا ،  اس کی عمر کتنی ہے،لڑکی بار بار عدالت میں کھڑی ہوکر کہہ رہی ہے کہ اس نے شادی کی ہے، پیر کو اس کیس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں گے ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو حکم دیا کہ وہ اس مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش کروائے ، میرٹ پر انکوائری کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرکے لائیں ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کردی۔

Ansa Awais

Content Writer