خواجہ برادران بچ گئے

خواجہ برادران بچ گئے

(ملک اشرف)   احتساب عدالت نے  پیراگون سکینڈل کیس کی سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کردی، ریفرنس کی نقول صاف نہ ہونے کی وجہ سے خواجہ برادران پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔

احتساب عدالت میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس کی سماعت ہوئی، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق عدالت پیش ہوئے،  اس موقع پروکیل صفائی امجد پرویز نےعدالت کو درخواست دی کہ ان کو ریفرنس کی جو نقول فراہم کی گئی ہیں وہ صاف نہیں، پہلے نقول فراہم کی جائے اور پھر فرد جرم عائد کی جائے۔

عدالت نے کہا کہ فرد جرم تو آج ہی عائد ہوگی، جو نقل نہیں پڑھی جا رہی وہ فراہم کردیتےہیں، وکیل صفائی نے کہاکہ قانون کے مطابق نقول دینے کے سات روز بعد فرد جرم عائد ہوتی ہے، لہذا فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔

عدالت نے پراسیکیوٹرعلی ٹیپو کو ہدایت کی کہ ریفرنس چیک کیے جائیں اور بتائیں کہ کون سی نقول خراب ہیں، عدالت نے کارروائی روکتے ہوئے دونوں وکلاء کو ریفرنس کی پڑتال کی ہدایت دی۔

 عدالت نے صورت حال دیکھتے ہوئے نیب کو حکم دیا کہ تمام نقول وکیل صفائی کو فراہم کی جائے جس کے بعد سماعت چار ستمبرتک ملتوی کر دی گئی، اب خواجہ برادران پر فرد جرم 4 ستمبر کوعائد ہو گی۔

خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت آئی سی یو میں آخری سانس لے رہی ہے، ملک میں جنگ کے حالات ہیں اور حکومت انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہے، بولے حکومت ناکام ہو گئی ہے، سابق وزیر ریلوے نے وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید پر بھی خوب تنقید کی۔

خواجہ سلمان رفیق نے ہسپتال میں ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت کی نالائقی قراردیا۔