(ویب ڈیسک) شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائلوں کے اپنے جدید لانچ میں کلسٹر بموں کی ٹیسٹنگ کا تجربہ کر لیا۔ تجربہ کا مقصد اسلحہ سسٹم میں لگے کلسٹر بم وارہیڈ اور فریگمنٹیشن مائن وارہیڈ کی طاقت کا اندازہ کرنا تھا۔
کووریائی سنٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائلوں کے اپنے جدید لانچ میں کلسٹر بموں کی ٹیسٹنگ کی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا کے سنفو خطہ سے صبح تقریباً 6.10 بجے مشرقی سمندر کی طرف داغے۔ کئی قلیل فاصلے کی بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگانے کے ایک دن بعد کوریائی سنٹرل نیوز ایجنسی نے ہواسونگ-11 را اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل لانچ کیے جانے کی رپورٹ شائع کی۔
کے سی این اے نے کہا کہ تجربہ کا مقصد اسلحہ سسٹم میں لگے کلسٹر بم وارہیڈ اور فریگمنٹیشن مائن وارہیڈ کی طاقت کا اندازہ کرنا تھا۔ کے سی این اے کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 136 کلومیٹر دور واقع 13 ہیکٹیئر رقبہ والے ایک جزیرہ کے پاس ایک ہدف والے علاقہ پر 5 میزائلوں نے حملہ کیا۔ یہ انتہائی کثافت والا علاقہ تھا، جس سے ان کی جنگی صلاحیت پوری طرح سے ظاہر ہوئی۔
جاری کردہ تصایر میں شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اور اُن کی بیٹی کم جو-اے بھی نظر آئیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں ان کے جانشیں کی شکل میں تیار کیا جا رہا ہے۔ کم جونگ نے لانچ ٹیسٹنگ پر انتہائی اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خاص ہدف والے علاقہ کو تباہ کرنے کے لیے اعلیٰ کثافت والے فائر پاور کے ساتھ ساتھ اعلیٰ شفافیت والے فائر پاور کو بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اتوار کے روز کی گئی یہ لانچنگ 8 اپریل کو شمالی کوریا کے ذریعہ کئی قلیل دوری کی بیلسٹک میزائلوں کی ٹیسٹنگ کے بعد ہوئی۔ اس وقت اسٹیٹ میڈیا نے کہا تھا کہ ملک نے کلسٹر بم وارہیڈ سے مزین ایک اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ یہ اعلیٰ کثافتی قوت کے ساتھ ہدف والےعلاقوں کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔
جنوبی کوریا کے قومی سیکورٹی دفتر نے شمالی کوریا کے ذریعہ کی گئی نئی میزائل لانچنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کی خلاف ورزی بتایا ہے اور شمالی کوریا کے میزائل سے متعلق تجربوں کو فوراً روکنے کی اپیل کی ہے۔