ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے اضافی 180 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی وصولی کے خلاف دائر متفرق درخواست پر وفاقی حکومت کے لاء افسر سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر متفرق درخواست پر سماعت کی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے جولائی سے وسط اپریل تک مجموعی طور پر ایک ہزار دو سو چونتیس ارب روپے سے زائد وصول کیے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم ٹیکسز میں اضافے کے باعث مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ کرایے بڑھے اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل میکنزم طلب کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ عوام سے وصول کی جانے والی اضافی رقم کس قانونی جواز کے تحت لی گئی۔
عدالت نے وفاقی حکومت کے لاء افسر کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اس حوالے سے جامع رپورٹ پیش کی جائے تاکہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی گئی۔