ویب ڈیسک:اداکارہ سونالی کلکرنی نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ 1997ء میں تبو کو فلم ’ماچس‘ پر بہترین اداکارہ کا قومی فلم ایوارڈ ملنے پر مجھے ان سے شدید حسد محسوس ہوا تھا۔
سونالی کلکرنی نے بتایا کہ وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں ہی قومی ایوارڈ حاصل کرنا چاہتی تھیں اور اسی خواہش کی وجہ سے تبو کی فلمیں دیکھا کرتی تھی۔
اداکارہ کے مطابق فلم ’مشن کشمیر‘ کی شوٹنگ کے دوران میں ممبئی کے فلم سٹی میں تبو سے ملنے کا انتظار کرتی رہی، ملاقات کے دوران میں نے تبو کی تعریف کی جس پر تبو نے تحمل سے پہلے ان کی بات سنی اور بعد میں شکریہ ادا کیا۔
سونالی نے کہا کہ اس ملاقات نے مجھے احساس دلایا کہ بڑے فنکار بھی عام انسانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، نامور فنکاروں سے حسد کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
انٹرویو کے دوران سونالی نے ایشوریا رائے سے متعلق ایک واقعہ بھی بتایا کہ ایک مرتبہ میں نے ایشوریا کے لباس کی تعریف کی تو معلوم ہوا کہ وہ لباس خود ایشوریا نے تیار کیا تھا۔
واضح رہے کہ سونالی کلکرنی کو 2002ء میں مختصر مراٹھی فلم ’چیترا‘ میں اداکاری پر قومی فلم ایوارڈ کا خصوصی اعزاز بھی مل چکا ہے تاہم اداکارہ کا کہنا ہے کہ میری مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی خواہش برقرار ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سونالی کلکرنی کی نئی فلم ’دی پیراڈائز‘ 24 ستمبر کو سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔