ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کترینہ کیف کی حمایت میں پاکستانی فنکار بھی بول پڑے، جسمانی ساخت پر تنقید کی مذمت

کترینہ کیف کی حمایت میں پاکستانی فنکار بھی بول پڑے، جسمانی ساخت پر تنقید کی مذمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف کی حالیہ ظاہری شکل اور زچگی کے بعد وزن پر تبصروں کے معاملے پر پاکستانی فنکار بھی ان کی حمایت میں سامنے آگئے۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب انٹرٹینمنٹ کمنٹیٹر اور آر جے ڈاکٹر اعجاز وارس نے انبانی خاندان کی گنیش چترتھی تقریب میں کترینہ کیف کی حالیہ ظاہری شکل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ وکی کوشل کی والدہ جیسی لگ رہی ہیں۔ انہوں نے کترینہ کو اپنا وزن ’’حد میں‘‘ رکھنے کا مشورہ بھی دیا۔

ان تبصروں پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد ڈاکٹر اعجاز وارس نے مبینہ طور پر اپنی انسٹاگرام پوسٹ حذف کردی  پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے خواتین کی شکل، عمر اور ذاتی زندگی کو تفریح کا موضوع بنانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی رائے رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کسی خاتون کی شخصیت کو مواد بنا کر پیش کرنے کی آزادی مل جائے۔

اداکارہ عیدہ شیخ نے بھی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر بُلنگ، جسمانی ساخت پر تنقید اور ہراسانی کو کب سے معمول سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رائے اور کسی کے جسم پر تنقید میں فرق ہے۔

گلوکار و اداکار علی ظفر نے بھی کترینہ کیف کی حمایت کرتے ہوئے خواتین کی ظاہری شکل کے حوالے سے قائم غیر حقیقی خوبصورتی کے معیار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو خواتین کی شکل پر فیصلہ دینے سے پہلے خود اپنا جائزہ لینا چاہیے۔

علی ظفر نے کترینہ کیف کے ساتھ 2011 کی فلم ’’میرے برادر کی دلہن‘‘ میں کام کیا تھا سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں پاکستانی صارفین کی جانب سے بھی خواتین کے جسم اور ظاہری شکل کو عوامی تنقید کا موضوع بنانے پر اعتراض کیا گیا ہے۔