سٹی42: پڑوسی ملک بھارت کی سیاست میں یہ خطرناک رجحان سامنے آیا ہے کہ دہلی یونیورسٹی پر انتہا پسند ہندوتوا پرست گروہ راشٹریہ سیوک سنگھ آر ایس ایس کی سٹوڈنٹ تنظیم کا قبضہ ہو گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس قبضہ کے لئے سسٹمیٹک مدد فراہم کی۔ بائیں بازو کی تنظیم سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا ایس ایف آئی اور کانگرس کی لبرل سٹوڈنٹس تنظیم این ایس یو آئی کے ووٹ آپس میں تقسیم ہونے سے بھی انتہا پسند ہندوتوا پرست تنظیم کو فائدہ ہوا۔
بھارتی میڈیا کی آج کی رپورٹس کے مطابق دہلی یونیورسٹی طلبا یونین کے انتخابات میں آر ایس ایس سے منسلک اے بی وی پی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نے صدر کےعہدہ سمیت 3 سیٹوں پر قبضہ جما لیا ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن کل جمعرات کو ہوئے تھے، آج جمعہ کے روز انتخاب کا نتیجہ برآمد ہوا جس میں کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے محض ایک نائب صدر عہدہ پر کامیابی حاصل کی۔ این ایس یو آئی کو گزشتہ طلبا یونین انتخابات کے مقابلے ایک عہدہ کا نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ بار این ایس یو آئی کا امیدوار صدارتی عہدہ پر کامیاب ہوا تھا۔

صدر کےعہدہ پر اے بی وی پی کے آرین مان، سکریٹری کے عہدہ پر کنال چودھری اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدہ پر دیپیکا جھا نکو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
نائب صدر عہدہ کے لیے کھڑے اے بی وی پی کے امیدوار گووند تنور کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس انتخاب میں آرین مان کو 28841 ووٹ ملے، گووند تنور کو 20547 ووٹ، کنال چودھری کو 23779 ووٹ، دیپک جھا کو 21825 ووٹ ملے۔
این ایس یو آئی نے صدر کے عہدہ کے لیے فی میل سٹوڈنٹ جوسلن نندیتا چودھری کو میدان میں اتارا تھا، انہیں12645 ووٹ ملے اور وہ برے مارجن سے الیکشن ہار گئیں۔
نائب صدر کےعہدہ پر فتح حاصل کرنے والے راہل یادو جھانسل کو 29339 ووٹ ملے ، کبیر کو 16177 ووٹ اور لوکُش بھڈانا کو 17380 ووٹ ملے۔
بائیں بازو کا برا حال; دہلی یونیورسٹی یونین الیکشن میں ایس ایف آئی کی کارکردگی
2025 دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (DUSU) کے انتخابات میں، بائیں بازو کی حمایت یافتہ AISA- SFI اتحاد نے چار بڑے عہدوں میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کیا۔
خاص طور پر، ان کے امیدوار صدارتی دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہے، انجلی نے 5,385 ووٹ حاصل کیے، ان کے مقابلے میں 28,821 ووٹوں کے ساتھ فاتح آرین مان (ABVP) اور 12,645 ووٹوں کے ساتھ جوسلین نندیتا چودھری (NSUI) تھے۔
نائب صدر کے عہدے کے لیے سوہن کو 4,163 ووٹ ملے۔ جیتنے والے امیدوار راہل جھانسلا (NSUI) 29,339 ووٹوں کے ساتھ تھے۔
سکریٹری کے عہدے کے لیے ابھینندنا 9,535 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، وہ فاتح کنال چودھری (ABVP) سے پیچھے رہے جنہیں 23,779 ووٹ ملے۔
جوائنٹ سکریٹری کے لیے AISA- SFI کے امیدوار ابھیشیک 8,425 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ فاتح، دیپیکا جھا (ABVP) نے 21,825 ووٹ حاصل کیے۔
دہلی یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین الیکشن میں دیگر طلبا تنظیموں میں بائیں بازو کی سٹوڈنٹس فیدریشن آف انڈیا ایس ایف آئی-آئیسا کا حال انتہائی خراب رہا۔
ایس ایف آئی، یا اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، ہندوستان کی ایک ممتاز طلبہ تنظیم ہے، بشمول دہلی یونیورسٹی، جو بائیں بازو کی طلبہ سیاست کی وکالت کرتی ہے، سماجی انصاف، جمہوری حقوق، اور سامراج مخالف جدوجہد جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ سماجی نابرابری کے ایشوز پر احتجاج کے لیے طلبہ کو متحرک کرنے، یونیورسٹی کے نظام کے اندر بائیں بازو کے اور غریب سٹوڈنٹس کی بہتری کے ایجنڈے کو فروغ دینے میں اپنے کردار کے لیے جانی جاتی ہے۔
کانگرس کی ذیلی سٹوڈنٹ تنظیم کے لیڈر کا شکست کے بعد بیان
این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے کہا کہ انصاف کے لیے این ایس یو آئی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’این ایس یو آئی نے اس عدم مساوات والے انتخاب میں اچھی لڑائی لڑی۔ صرف اے بی وی پی کے خلاف ہی نہیں، دہلی یونیورسٹی انتظامیہ، دہلی حکومت، مرکزی حکومت، آر ایس ایس-بی جے پی اور دہلی پولیس کی مشترکہ طاقت کے خلاف بھی یہ انتخاب لڑا گیا۔‘‘
NSUI fought well in this odd election - not just against ABVP, but against the combined force of DU Admin, Delhi Govt, Central Govt, RSS-BJP & Delhi Police. Yet thousands of DU students stood firmly with us and our candidates fought well.
— Varun Choudhary (@varunchoudhary2) September 19, 2025
Best wishes to Rahul Jhansla, newly…
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہزاروں طلبا نے ہمارے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو کر ہماری حمایت کی اور ہمارے امیدواروں نے پوری طاقت سے مقابلہ کیا۔‘‘
یونیورسٹی انتظامیہ کی آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کی سسٹمیٹک مدد
یونی ورسٹی انتظامیہ نے باقی تمام سٹوڈنٹ تنظیموں پر انتخابی ضابطہ اخلاق سختی سے نافذ کیا، کسی کو تحریری مواد تقسیم نہین کرنے دیا لیکن آر ایس ایس کی ذیلی سٹوڈنٹ تنظیم نے پوری آزادی کے ساتھ ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائیں اور روزانہ تحریری پمفلٹ تقسیم کئے۔
نائب صدر کا امیدوار آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کے امیدوار سے بہتر پوزیشن میں تھا، یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے الیکشن سے ہی نکالنے کی سر توڑ کوشش کی۔ اس پر نام نہاد الزامات کی تحقیقات کے لئے اسے مختصر انتخابی مہم کے دوران روزانہ کئی کئی گھنٹے تحقیقاتوں کے لئے بٹھایا گیا۔
اجتماع کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ نےآر ایس ایس کی ذیلی سٹوڈنٹ تنظیم کو سہولتیں فراہم کیں اور مخالف تنظیموں کی ہر طرح حوصلہ شکنی کی۔