ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،مولانا فضل الرحمان 

آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،مولانا فضل الرحمان 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو نسل کشی مرتکب قرار دیا ۔عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار  کرنے کا حکم دیا ہے

جے یو آئی  کے  بھکر میں جلسے سے مولانا فضل الرحمان نے  خطاب  کرتے ہوئے کہا ۔مسلمانوں میں فتنے پیدا کئے جارہے ہیں ۔فتنوں کا خاتمہ امت کی ذمہ داری ہے 
بہت سے شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ،ہمارے معاشرے میں امت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی،اسرائیل نے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو بربریت کا نشانہ بنایا 
عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو نسل کشی مرتکب قرار دیا ۔عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار  کرنے کا حکم دیا ہے ۔صدام حسین پر مقدمہ چل سکتا ہے تو نیتن یاہو پر کیوں نہیں ۔
 اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا اعلان فلسطین کو ختم کرنے کا اعلان ہے،۔جب تک فلسطین نہیں قبول کرتا کوئی بھی فیصلہ کرنا ناممکن ہے۔حکمرانوں کو کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچنا بھی نہیں ورنہ  ہمارے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
نیتن یاہو کو یو این بھی بلایا جاتا ہے تو ٹرمپ اس کی پہلو میں بیٹھتے ہیں ۔اتنے بڑے جرائم کے بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے ۔ہم فلسطین کا یک طرفہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں ۔علما اور مدارس کے خلاف پروپیگینڈا کیا جارہا ہے 
قانون بن چکا ہے تو پھر مدارس کے اکاونٹ بن جانے چاہیے۔وزارت تعلیم کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کیوں کروائی جارہی ہے۔دینی مدارس ہر تحریک کا مرکز ہیں مگر ریاست مدارس کے بارے میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔علم کو جدید اور عصری علوم میں تقسیم کرنا انگریز کا کام ہے ،مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان  نے کہا آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،دینی مدارس کے طلبہ دنیاوی تعلیم کا امتحان بھی دے رہے ہیں اور بورڈ ٹاپ کرتے 
 مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے مدارس کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ پہلے پانچ وفاق المدارس پر اعتراض تھا اب درجن بھر کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔

فلسطین کے مسلہ پر بنائی گئی کمیٹی سفارشات پر عمل نہیں ہوا ۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کہاں ہیں۔فلسطین میں یہودیوں کو آباد کیا جارہا ہے ۔ فلسطین میں ستر ہزار بچوں خواتین کو شہید کیا گیا 
 ایک لاکھ  فلسطینیی بھوک سے شہید ہوئے  حماس ابھی تک جنگ لڑ رہا ہے  ۔