ویب ڈیسک ;کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران صورتحال بگڑ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، جبکہ ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں کمی کا نتیجہ ہے۔
کینیا کی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی نے گزشتہ ہفتے ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ کیا تھا، جس کے بعد عوامی ردعمل میں مزید شدت آ گئی۔
دارالحکومت نیروبی اور دیگر شہروں میں احتجاج کے دوران سڑکیں بند کر دی گئیں، ٹائر جلائے گئے اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔
حکام کے مطابق مظاہرین اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، جس کے بعد ہڑتال جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیا تقریباً مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوامی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قیمتوں میں توازن لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ جب تک ریلیف نہیں ملتا احتجاج جاری رہے گا۔