ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 “لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول“ سڑکوں اور تاریخی گزر گاہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا  فیصلہ

 “لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول“ سڑکوں اور تاریخی گزر گاہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا  فیصلہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد: لاہور کی سڑکوں اور گلیوں کے پرانے نام بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا، جبکہ سرکاری کالجز جنہیں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے، ان کے ناموں کو بھی اصل حالت میں واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاہور کو اس کی قدیمی شان و شوکت واپس دلانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت “لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول (لہر)” کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنے کے لیے متعدد بڑے فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں لاہور کی قدیمی اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کے منصوبوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور جاری پراجیکٹس کا تصویری جائزہ بھی لیا گیا۔

ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں “کانوونٹ گارڈن” بنانے اور اسی مارکیٹ میں “ایوری تھنگ آرگینک کیفے” قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت شاپس، سیمی کورڈ ایریا اور دو منزلہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ بھی تعمیر کی جائے گی۔

 علاوہ ازیں“نیو میوزیم بلاک” منصوبے کے تحت عالمی معیار کی گیلریز قائم کی جائیں گی، جن میں قدیمی اسلحہ، سکے، چائنیز اور سکھ تہذیب سے متعلق گیلریز شامل ہوں گی۔ جدید انٹرایکٹو سکرینز بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنیں گی۔

اجلاس میں شاہ عالم گیٹ سے رنگ محل چوک تک راستے کو پیدل گزرگاہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھاٹی، موچی، موری، یکی، مستی اور دہلی گیٹ سمیت آٹھ تاریخی گزرگاہوں کو ان کی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔

سیاحوں کی سہولت کے لیے ان گزرگاہوں میں الیکٹرک کارٹس چلانے اور اکبری گیٹ پر ٹورسٹ انفارمیشن آفس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

لاہور قلعہ کی فصیل کو قدیمی طرز پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فصیل کی تعمیر دو مراحل میں مکمل ہوگی، جس میں ٹیکسالی گیٹ سے بھاٹی گیٹ تک پہلا اور یکی گیٹ سے مستی گیٹ تک دوسرا مرحلہ شامل ہے۔

 اجلاس کے دوران مریم زمانی مسجد سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی،شاہ عالمی چوک میں باؤلی باغ کو تجاوزات سے پاک کر کے بحال کرنا،نیلا گنبد میں کیفے اور انڈر گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ،پاک ٹی ہاؤس اور دیگر عمارتوں کو تاریخی شکل میں بحالی،اندرون لاہور میں ہنرمندوں سے منسوب 36 گلیوں کی بحالی جبکہ داتا دربار کی توسیع کے لیے 18 کنال اراضی کے حصول پر بھی بات کی گئی 
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

یہ منصوبہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔