مالک مکان پر اغوا کا مقدمہ، لڑکی نےعدالت کو سب سچ بتادیا

مالک مکان پر اغوا کا مقدمہ، لڑکی نےعدالت کو سب سچ بتادیا

(جمال الدین جمالی)سیشن عدالت میں 20 سالہ لڑکی کو گھر میں ملازمت پر لگوا کر مالک مکان پر اغوا کا مقدمہ درج کرانے کا معاملہ، عدالت نے لڑکی کا بیان قلمبند کرنے کے بعد لڑکی کو مالک مکان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق لڑکی کو ملازمت پرلگواکرمالک مکان پراغواکامقدمہ کرانےکامعاملہ عدالت میں پیش کیاگیا، عدالت نےلڑکی کا بیان قلمبند کر کےمالک مکان کےساتھ جانے کی اجازت دے دی، عدالت کو گمراہ کرنے اور غلط بیانی کرنےپر لڑکی کے والدین کی سرزنش کی،ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی قمر نے کیس پر سماعت کی۔

عدالت نے 20سالہ انعم سےاستفسار کیا کہ آپ بتاؤکس کے ساتھ جانا چاہتی ہو ؟کیا آپ کو کسی نے اغوا کیا ہے؟انعم بی بی نےعدالت کوبیان دیتے ہوئےکہا کہ ان سب کوعدالت سےباہرنکال دیں مجھےان سےڈرلگتاہے، کمرہ عدالت سے تمام سائلین اور لڑکی کےگھروالوں کو باہر نکال دیاگیا، انعم بی بی کا کہناتھا کہ میرے گھر والوں نےمالک مکان سے5لاکھ روپے لیےہیں۔

گھریلو ملازمہ انعم بی بی نے عدالت کو بتایا کہ میں 3سال سے ان کے پاس کام کر رہی ہوں ،مالک مکان ماہانہ مجھے دس ہزار بھی دیتے ہیں،مالک مکان مجھے بہن بیٹی جیسی عزت دیتے ہیں، انعم بی بی نے عدالت سے استدعا کی کہ گھر والوں کےساتھ نہیں جاناچاہتی،مکان مالک کےساتھ جانےکی اجازت دی جائے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد گھریلو ملازمہ انعم بی بی کو والدین کی بجائے مالک مکان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلاکیس نہیں جو عدالت میں لایا گیا قبل ازیں اس سے ملتے جلتے متعدد کیسز سامنےآچکے ہیں جہاں  والدین اپنے کم عمر بچوں کو بڑے گھروں میں کام کرنے کے لئے شہر وں٘ میں بھیج دیتے ہیں جہاں ان کے ساتھ نارواسلوک کیاجاتا اور والدین مالکان سے ایڈوانس میں بھاری رقم لے لیتے ہیں اور اس ظلم کی چکی کی میں بچے پستے رہتے ہیں۔