ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سات سال بعد ملزم کی گرفتاری، لاہور ہائیکورٹ کی قصور پولیس پر سخت برہمی، ملزم کی ضمانت منظور

سات سال بعد ملزم کی گرفتاری، لاہور ہائیکورٹ کی قصور پولیس پر سخت برہمی، ملزم کی ضمانت منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے شہری کو زخمی کرنے کے مقدمے میں سات سال سات ماہ بعد ملزم کی گرفتاری کے معاملے پر قصور پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزم تنویر احمد کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، جس کے دوران ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمے میں غیر معمولی تاخیر کے حوالے سے وضاحت پیش کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے قصور پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سات سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مقدمے میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی گئی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ ملزم کو نہ اشتہاری قرار دیا گیا اور نہ ہی اس کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے گئے۔

ڈی پی او قصور نے عدالت کو بتایا کہ معاملے کی انکوائری مکمل کر لی گئی ہے اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کی فائل بڑی مشکل سے دستیاب ہوئی کیونکہ اس پر طویل عرصے سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ صرف شوکاز نوٹس جاری کرنا کافی نہیں اور ایسے معاملات میں ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی یہ کارکردگی پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

سماعت کے دوران ڈی پی او قصور نے اعتراف کیا کہ ملزم کے وارنٹ گرفتاری بھی حاصل نہیں کیے گئے تھے۔ عدالت نے اس صورتحال کو نظام کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے طرز عمل سے اداروں کا تاثر متاثر ہوتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ڈی پی او قصور کا مؤقف سننے کے بعد ملزم تنویر احمد کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی اور مقدمے کی صورتحال سمیت ذمہ دار افسران کے تعین سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔