ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب:سکولوں کو کمرشل ماڈل پر چلانے کی تجویز، 13 نئے آمدنی کے آپشنز

پنجاب:سکولوں کو کمرشل ماڈل پر چلانے کی تجویز، 13 نئے آمدنی کے آپشنز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جنید ریاض:محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری اسکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے اور اضافی آمدن پیدا کرنے کیلئے ایک نیا اور جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت اسکولوں کے غیر استعمال شدہ وسائل کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم نے اسکولوں کیلئے اضافی آمدن کے 13 مختلف آپشنز تجویز کیے ہیں، جن کے ذریعے تعلیمی اداروں کو مالی طور پر مستحکم بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت اسکولوں کی بیرونی دیواروں پر برانڈنگ، فلیکس بورڈز، بل بورڈز اور ہورڈنگز لگانے کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے اشتہاری آمدن حاصل کی جا سکے گی۔

اسی طرح اسکولوں کی اضافی جگہوں پر مارکیٹس، دکانیں اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے آغاز کا آپشن بھی شامل ہے۔

مجوزہ منصوبے میں موبائل فون کمپنیوں کو اسکولوں میں ٹیلی کام ٹاورز نصب کرنے کی پیشکش اور اسکولوں کی چھتوں و خالی زمین پر سولر انرجی منصوبے لگانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

مزید یہ کہ اسکول گراؤنڈز اور ہالز کو تقریبات اور کھیلوں کیلئے کرائے پر دینے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پیڈل، کرکٹ اور جم سہولیات قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق اسکولوں کی لیبارٹریاں اور کمپیوٹر رومز نجی اداروں کو کرائے پر دینے کا آپشن بھی زیر غور ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے اسکولوں کی زرعی زمین کو لیز پر دینے اور اضافی زمین پر نرسری و ہارٹیکلچر یونٹس قائم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔

اسی طرح خالی عمارتوں کو ہاسٹل، سرائے یا رہائشی سہولت کے طور پر استعمال کرنے اور اسکولوں کے داخلی راستوں کے قریب پبلک ٹوائلٹ فیسلٹی قائم کرنے کا پلان بھی زیر غور ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اسکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانا اور غیر استعمال شدہ اثاثوں سے اضافی آمدن حاصل کرنا ہے، جبکہ پنجاب میں جدید فنانسنگ ماڈل متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔