ویب ڈیسک: روس نے یوکرین کے ڈرون حملے کےجواب میں 24 گھنٹوں کے اندر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کر دیا ہے۔ اتوار کے روز تقریباً 5 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس شدید فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کی وجہ سے شہر کے کئی حصوں میں آگ لگ گئی اور عمارتوں کو کافی نقصان پہنچا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو اب تک کے بڑے حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تباہی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ روس نے دارالحکومت کیف پر مختلف قسموں کی تقریباً 40 میزائل داغے اور 120 ڈرونز سے حملے کئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس نے کیف پر تقریباً 40 اسکندر-ایم اور ہائپرسونک زرکون میزائلیں داغے۔ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ڈیڑھ بجے فضائی حملے کا سائرن بجا، جس کے فوراً بعد فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ چند ہی منٹوں میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کیف شہر کے تاریخی مرکز میں واقع متعدد مکانات شدید دھماکوں سے لرز اٹھے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کے الارم بجنے لگے۔ حکام کے مطابق ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں درجنوں میزائلیں شہر پر گریں۔
رپورٹس کے مطابق صبح ساڑھے 6 بجے دوبارہ فضائی حملے کا سائرن بجا اور شہر کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر دھماکے ہوئے۔ حملے میں وسطی کیف کے شیوچینکیوسکی ضلع کی 3 منزلہ عمارت میں بھی شدید آگ بھڑک اٹھی۔امدادی ٹیموں نے ملبے میں پھنسے کئی افراد کو بحفاظت باہر نکالا، جبکہ ایک شخص کی لاش برآمد کی گئی۔ اس کے علاوہ شہر کے 4 دیگر علاقوں میں بھی دفاتر، رہائشی عمارتوں اور ایک طلبہ کے ہاسٹل میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔لوکیانیوسکا میٹرو اسٹیشن میں پناہ لینے والے افراد نے ویڈیوز شیئر کیں، جن میں ایک طاقتور دھماکے کی وجہ سے اسٹیشن کے داخلی حصے کی چھت کا ایک حصہ گرتا ہوا نظر آیا۔ کیف کی فوجی انتظامیہ نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ جبکہ میئر ویتالی کلیچکو نے 7 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 سے جنگ جاری ہے۔ روزانہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہفتے کے روز یوکرینی ڈرون حملوں میں ماسکو اور تامبوف کے علاقوں میں واقع ای کامرس گوداموں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں 8 افراد ہلاک ہوئے اور کئی مقامات پر شدید آگ بھڑک اٹھی تھی۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی مسلسل مغربی ممالک سے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی اضافی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔