سٹی 42: صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ الحاقِ پاکستان (19 جولائی 2026) پر پیغام دیتے ہوئے کہا پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا
صدر زرداری نے کہا آج کا دن جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے 19 جولائی 1947 کو منظور کی جانے والی اس تاریخی قرارداد کی یاد میں ہے جو برصغیر کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی سیاسی امنگوں کی آئینہ دار بنی۔یہ دن ہمیں پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے مابین گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں کی یاد دلاتا ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کا احترام کرنے کی اہمیت کا بھی اعادہ کرتا ہے۔
تقریباً آٹھ دہائیوں سے، جموں و کشمیر کا تنازع اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے باوجود، جن میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے، حل نہیں ہو،سکا۔ اس بنیادی حق کا مسلسل انکار اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں، عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔
صدر مملکت نے کہا پاکستان نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس تنازعہ کے پرامن اور منصفانہ حل کی وکالت کی ہے۔ ہم عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے کہا میں جموں و کشمیر کے عوام کے حوصلے اور پختہ عزم کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔امید ہے کہ یہ دن جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کو نئی جلا بخشے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، سلامتی اور خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔