احسن عباسی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت اب باقاعدہ طور پر انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوگی۔ اے ٹی سی کے منتظم جج نے کیس کو انسداد دہشت گردی کورٹ نمبر 16 میں منتقل کر دیا ہے، جہاں جلد باقاعدہ ٹرائل کا آغاز متوقع ہے۔
یاد رہے کہ مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کے روز اس کے قریبی دوست ارمغان نے مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا۔ قتل میں ارمغان کے ساتھ ایک اور شخص شیراز بھی شریک جرم پایا گیا دونوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے مصطفیٰ عامر کو ڈیفنس کراچی میں قتل کرنے کے بعد بلوچستان منتقل کیا، جہاں لاش کو آگ لگا کر جلانے کی کوشش کی گئی۔ مقتول کی لاش حب سے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی۔
پولیس اور میڈیا کے سامنے دونوں ملزمان نے قتل کا اعتراف بھی کیا تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینے سے انکار کر دیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق کیس میں انسداد دہشت گردی دفعات شامل ہونے کے بعد یہ اہم پیش رفت ہے، اور آئندہ سماعت میں عدالت مقدمے کی نوعیت، شواہد اور ملزمان کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔