ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یو اے ای میں پراپرٹی خریدتے وقت یہ 7 غلطیاں ہرگزنہ کریں

 یو اے ای میں پراپرٹی خریدتے وقت یہ 7 غلطیاں ہرگزنہ کریں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :یو اے ای میں پراپرٹی خریدتے وقت کی جانے والی 7 بڑی غلطیاں کون سی ہوتی ہیں؟وہ پیش کی جارہی ہیں۔
تازہ ترین سٹڈی کے مطابق اس سال دس میں سے تقریباً سات رہائشی پراپرٹی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جوش و خروش بغیر تیاری کے خریداری کے بعد مایوسی کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پراپرٹی خریدتے وقت کی جانے والی سات بڑی غلطیوں میں پہلی عام غلطی یہ ہے کہ مالی حیثیت کو واضح کیے بغیر پراپرٹی دیکھنا شروع کر دینا۔
بینک کے مطابق خریدار کو پراپرٹی دیکھنے سے پہلے اپنی تقریباً 70 سے 80 فیصد مالی صورتحال واضح ہونی چاہیے تاکہ وہ جان سکیں کہ کتنا کیش ڈاؤن کر سکتے ہیں اور کون سی مورگیج کے اہل ہیں ورنہ خریدار کسی پراپرٹی سے جذباتی وابستگی پیدا کر بیٹھتا ہے اور بعد میں بینک سے قرض کی منظوری نہ ہونے پر پریشان ہو جاتا ہے۔
دوسری اہم غلطی چھپے ہوئے اخراجات کو نظر انداز کرنا ہے،ان پیمنٹس میں ڈاؤن پیمنٹ کے علاوہ رجسٹریشن فیس، بینک ویلیوایشن چارجز، ایجنسی کمیشن، ٹرسٹی فیس اور ڈویلپر کے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ کی فیس بھی شامل ہوتی ہیں،جو پراپرٹی کی قیمت کا سات سے آٹھ فیصد تک ہو سکتی ہیں۔
تیسرا مسئلہ سروس چارجز اور دیکھ بھال کے اخراجات کو نظر انداز کرنا ہے، پراپرٹی کی قیمت صرف آغاز ہے، بعد میں آنے والے ماہانہ سروس چارجز اور دیکھ بھال کے اخراجات خریدار کے بجٹ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ بینک پوری پراپرٹی کی قیمت فراہم کرے گا، حقیقت میں اکثر غیر ملکی خریدار 70 سے 80 فیصد تک مالی معاونت حاصل کرتے ہیں، باقی رقم اور تمام فیسیں خریدار کو خود ادا کرنی پڑتی ہیں۔
پانچویں غلطی مورگیج کی ادائیگی کو کرایہ کے مساوی سمجھنا ہے، ماہانہ قسط نظر میں کرایہ کے برابر لگ سکتی ہے، لیکن سود کی شرح، سروس چارجز، انشورنس اور دیگر طویل المدتی اخراجات کو شامل کرنا ضروری ہے۔
چھٹی غلطی کاغذات کی تیاری میں کمی ہے، کئی خریدار اہم دستاویزات یا بینک کی ضروریات پوری نہ کرنے کی وجہ سے خریداری میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں، فارمز اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی یا پراپرٹی کے عنوان میں تضاد خریدار کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔


ساتواں مسئلہ پری اپروول کو نظر انداز کرنا ہے، تقریباً 15 سے 20 فیصد خریدار پری اپروول کے دوران مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جیسے کم مستقل آمدنی، ذاتی قرضے، قلیل ملازمت کی تاریخ یا نامکمل کاغذات، خودمختار یا حالیہ رہائشی خریداروں کے لیے بینک زیادہ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔
ماہرین کاکہناہے کہ پراپرٹی دیکھنے سے پہلے اس اہم کام کے لیے اس کے ہر پہلو پر مکمل توجہ دیں، اپنی مالی صورتحال اور پری اپروول مکمل کریں، چھپی ہوئی فیسز کا حساب لگائیں، سروس چارجز اور دیکھ بھال کے اخراجات کو سمجھیں اور تمام کاغذات کی تیاری کو یقینی بنائیں، اس سے وقت اور پیسہ دونوں کی بچت ہوتی ہے اور پراپرٹی خریدنے کا عمل آسان ہوجاتا ہے اور کسی شدید ذہنی دباؤ کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔