ویب ڈیسک : بھارت کی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ بی جے پی دل سے ذات پر مبنی مردم شماری نہیں چاہتی۔ اسی لیے مردم شماری میں او بی سی کالم ہٹا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’شیر صبر کرتا ہے، جلد بازی نہیں کرتا, مجھے کوئی جلد بازی نہیں ہے‘‘۔ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنا ہوگا اور او بی سی کے حقوق کے معاملہ کو مضبوطی سے اٹھانا ہوگا.
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق او بی سی کانگریس کے زیر اہتمام منعقد میٹنگ میں کچھ اہم باتیں پارٹی لیڈران کے سامنے رکھی گئیں۔ 19 اگست کو سات ریاستوں کے تقریباً 300 ضلعی صدور کے ساتھ انھوں نے ایک اہم میٹنگ کی، جس میں اتر پردیش، پنجاب اور اتراکھنڈ جیسی انتخابی ریاستوں کے علاوہ دہلی، راجستھان اور ہریانہ کے او بی سی کانگریس کے ضلعی صدور بھی شامل ہوئے۔ میٹنگ میں او بی سی کانگریس کے قومی صدر انل جئے ہند بھی موجود تھے۔بھارتی چینل’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ میٹنگ کے دوران راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری میں او بی سی کالم نہ ہونے کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی دل سے ذات پر مبنی مردم شماری نہیں چاہتی۔ اسی لیے مردم شماری میں او بی سی کالم ہٹا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے میٹنگ میں کہا کہ ’’شیر صبر کرتا ہے، جلد بازی نہیں کرتا۔ مجھے کوئی جلد بازی نہیں ہے۔‘‘
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹنگ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ 15 اگست کی تقریر میں وزیر اعظم مودی خوفزدہ نظر آ رہے تھے اور انکی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم کے پاس اب گنے چنے دن باقی ہیں، وہ جلد جانے والے ہیں۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے او بی سی لیڈران سے خصوصاً ذات پر مبنی مردم شماری معاملہ کو عوام کے درمیان لے جانے اور تحریک کھڑی کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنا ہوگا اور او بی سی کے حقوق کے معاملہ کو مضبوطی سے اٹھانا ہوگا۔ میٹنگ میں راہل گاندھی نے طلبا کی تحریک کا بھی ذکر کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ طلبا کی تحریک کے درمیان ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ بھی اٹھایا جا رہا ہے، تاکہ لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔ راہل گاندھی نے او بی سی لیڈران کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہماری عوام ببر شیر ہے۔ وہ ہرن کو تلاش کر رہی ہے۔ تمام ہرن چھپ گئے ہیں، کچھ پارلیمنٹ میں چھپ گئے تھے۔