ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مزید طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

مزید طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: محکمہ موسمیات کے مطابق  مزید طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کردیا گیا، جس کی وجہ سے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کے خطرات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، پنجاب، سندھ، شمال /جنوب مشر قی بلو چستان ا ور گلگت بلتستان میں مطلع ابر آلود رہنےکے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران خیبر پختونخوا،کشمیر ،بالائی پنجاب اور جنوبی بلوچستان میں کہیں کہیں شدیدموسلادھار بارش متوقع ہے۔

لاہور میں آج بھی مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں ہوا بند ہونے کے باعث حبس کی کیفیت برقرار ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔لاہور میں اس وقت 6 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 90 فیصد ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید حبس کا سامنا ہے۔

کراچی  کے مختلف علاقوں میں بارش نے موسم خوشگوار بنا دیا ہے۔گلشنِ اقبال اور یونیورسٹی روڈ پر تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا، جبکہ ایف بی ایریا اور شاہراہِ پاکستان پر بھی بارش کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔نارتھ ناظم آباد اور ناظم آباد میں بھی بادل خوب برسے، جبکہ کورنگی، کلفٹن اور ڈیفنس سمیت ملحقہ علاقوں میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔گلشنِ معمار، لیاری، طارق روڈ اور سندھی مسلم سوسائٹی کے اطراف کے علاقوں میں بھی ہلکی بارش نے جل تھل کر دیا ہے۔بارش سے درجہ حرارت میں کمی جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ گیا، شہریوں نے موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے تفریحی مقامات کا رخ کر لیا۔

اسلام آباد میں آج دن بھر مطلع جزوی طور پر ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے، جس کے باعث درجہ حرارت میں 3 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آج اسلام آباد کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے جبکہ 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 70 فیصد سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو بارش اور ممکنہ آندھی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، خاص طور پر کھلی جگہوں اور درختوں کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 ضلع خیبر میں تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ علی الصبح ہلکی بارش نے موسم میں خنکی تو پیدا کی، مگر حالیہ طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال میں مزید اضافہ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔گزشتہ روز شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی، جس سے کئی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سیلابی پانی کے باعث پاک افغان شاہراہ اور فرنٹیئر روڈ پر بھی ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

آج صبح سے جاری بارش کے سبب سیلابی خطرہ دوبارہ منڈلا رہا ہے جبکہ آسمان پر گہرے کالے بادل تاحال چھائے ہوئے ہیں۔ علاقے میں نمی اور حبس کی شدت میں کمی ضرور آئی ہے، مگر مسلسل بارشوں کے باعث عوام کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث جانی و مالی نقصان کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پی ڈی ایم اے نے جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک صوبے بھر میں 341 افراد جاں بحق اور 178 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 139 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 281 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع بونیر میں ہوئی ہیں، جہاں اب تک 222 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جبکہ صوابی میں گزشتہ روز کی بارشوں اور فلش فلڈ کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ افسوسناک واقعات صوبے کے مختلف اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لوئر، بٹگرام اور صوابی میں پیش آئے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔

ایبٹ آباد اور اس کے گرد و نواح میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے۔ حویلیاں کے علاقے تاجوال میں زیرِ تعمیر مکان گر گیا جبکہ تاجوال اور باگن کو ملانے والا پل بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس سے مقامی افراد کو شدید سفری مشکلات کا سامنا ہے۔بیروٹ خورد میں گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول کی دیوار گر گئی ہے، جس کے بعد عمارت کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ادھر مری اور ٹھنڈیانی روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے، ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

 مانسہرہ، بالاکوٹ، وادی کاغان، ناران اور شوگران سمیت گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث ندی نالوں اور دریاؤں میں ایک بار پھر طغیانی آ گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیشِ نظر تمام تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انتظامیہ نے سیاحوں کو بھی پہاڑی علاقوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

 خیرپور ناتھن شاہ شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔بارش کے بعد شہر کی سڑکوں اور گلی محلوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔شدید بارش کے باعث پورے شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے، جس سے نظامِ زندگی مزید مفلوج ہو گیا ہے۔

 دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب پیدا ہوگیا ہے۔ گنڈا سنگھ کے مقام پر اس وقت 65 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جبکہ پانی کی سطح 17 فٹ تک جا پہنچی ہے۔سیلابی ریلے نے قصور کے نچلے علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں زیرِ آب آگئی ہیں، جس سے کسانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فصلیں سیلابی پانی میں بہہ گئیں، زمینداروں کی مہینوں کی محنت چند لمحوں میں ضائع ہو گئی۔علاقے میں سات دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے، جس سے آمدورفت کا سلسلہ متاثر ہوا ہے اور دیہی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔

خیرپور ناتھن شاہ شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ شدید بارش کے بعد گلی محلوں اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے نظامِ زندگی متاثر ہو گیا ہے۔بارش کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے جبکہ شہر بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔