ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک صدی بعد بلی کی نئی نسل دریافت، سائنس دان حیران

نئی نسل کا سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ رکھا گیا ہے، جبکہ مقامی لوگ اسے ”ٹِلکایو“ کے نام سے جانتے ہیں

 ایک صدی بعد بلی کی نئی نسل دریافت، سائنس دان حیران
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:جنوبی امریکا کے ملک بولیویا میں سائنس دانوں نے بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک نئی نسل کی شناخت کرلی ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے بعد دریافت ہونے والی بلی کی پہلی سائنسی طور پر تسلیم شدہ نئی نسل قرار دی جارہی ہے۔ اس نئی نسل کا سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ رکھا گیا ہے، جبکہ مقامی لوگ اسے ”ٹِلکایو“ کے نام سے جانتے ہیں۔

یہ نئی بلی جنوبی امریکا میں پائے جانے والے ٹائیگر کیٹس کے گروہ کا حصہ ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کا وزن تقریباً پانچ پاؤنڈ یعنی 2 سے 2.5 کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا جسم پتلا اور دبلا ہے جبکہ ہلکی بھوری کھال پر گہرے رنگ کے گول اور پھول نما دھبے پائے جاتے ہیں۔ ظاہری شکل کے باعث یہ بلی چھوٹے حجم کے تیندوے جیسی دکھائی دیتی ہے۔

نیشنل جیوگرافک ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس-اسکارانز کے مطابق بولیویا میں اس بلی کا مشاہدہ کرنے کے دوران محققین نے محسوس کیا کہ اس کی جسمانی خصوصیات پہلے سے معلوم ٹائیگر کیٹس سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتیں۔ اسی فرق نے سائنس دانوں کو اس بات کی تحقیق پر آمادہ کیا کہ بولیویا میں پائی جانے والی ٹائیگر کیٹ دراصل کس نسل سے تعلق رکھتی ہے۔

محققین نے نئی نسل کی شناخت صرف اس کی ظاہری خصوصیات کی بنیاد پر نہیں کی بلکہ جینیاتی شواہد بھی حاصل کیے۔ اس مقصد کے لیے جنوبی امریکا کے مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 38 ٹائیگر کیٹس کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا، جن میں عجائب گھروں میں محفوظ آٹھ نمونے بھی شامل تھے۔

جینیاتی تجزیے کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ جن جانوروں کو پہلے ایک ہی قسم کی ٹائیگر کیٹ تصور کیا جاتا تھا، وہ دراصل پانچ مختلف جینیاتی نسلوں پر مشتمل ہیں، جس کے بعد بولیویا میں پائی جانے والی بلی کو ایک الگ اور نئی سائنسی نسل کے طور پر شناخت کیا گیا۔