ویب ڈیسک :عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز گر گئیں، سعودی عرب کی سپلائی میں بڑے تعطل کے خدشات کم ہونے سے مارکیٹ پر دباؤ بڑھ گیا۔
رپورٹ کے مطابق جمعے کو برینٹ خام تیل کی قیمت 79 سینٹ کمی کے بعد تقریباً 104 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 70 سینٹ کمی کے بعد 101.20 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تازہ حملوں کے باوجود مارکیٹ نے فوری طور پر سپلائی میں بڑے پیمانے پر خلل کے خدشات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب کے ریڈ سی ایکسپورٹ مرکز ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ معطل ہونے اور یورپ کے لیے کچھ ترسیلات منسوخ کیے جانے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً چار ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں۔
تاہم سعودی عرب کی جانب سے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی تقریباً نصف صلاحیت چند دنوں میں بحال کرنے کی کوششوں اور ایشیائی ریفائنرز کو اضافی خام تیل فراہم کرنے کی اطلاعات کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق تیل اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے کیونکہ مارکیٹ حقیقی سپلائی میں واضح بہتری کے شواہد کی منتظر ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حمل اب بھی خطرے سے خالی نہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹوگو کے پرچم بردار آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔
یوں ایک طرف سعودی سپلائی بحال ہونے کی امید نے تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیلا ہے، جبکہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بدستور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔