سٹی42: 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس(القادر ٹرسٹ کرپشن کیس) میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں طویل انتظار کے بعد سماعت کے لیے مقرر ہو گئیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کومعطل کرنے کی درخواستیں طویل انتظار کے بعد سماعت کے لیے مقرر ہو گئیں۔
عدالت ِ عالیہ نے سزا معطل کرنے کی درخواستوں کی سماعت 25 ستمبر کو کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بنچ اس پیٹیشن کی سماعت کرےگا۔
پی ٹی آئی کے بانی اور بشریٰ بی بی کی سزا ئیں معطل کرنے کی درخواستوں کی گزشتہ سماعت 26 جون کو ہوئی تھی۔
اسلام آباد کی اکاؤنٹیبلٹی کورٹ ( احتساب عدالت) نے 17 جنوری کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزائیں سنائیں تھیں۔
2 رکنی بینچ نے اس پیٹیشن کو جلد مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم بانی اور ان کی اہلیہ کی سزا ئیں معطل کرنے کی درخواست تاحال مقرر نہیں ہوئی تھی، جس پر آج بانی کی بہن علیمہ خان چیف جسٹس کے چیمبر میں کیس کی جلد سماعت کی استدعا لے کرگئیں۔ علیمہ کی استدعا پر سی جے نے پیٹیشن کی سماعت 25 ستمبر کو کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس/ القادر ٹرسٹ کرپشن کیس کا فیصلہ کیا ہے
سزائیں: سابق وزیراعظم عمران خان کو اپنے اختیارات کو استعمال کر کے کرپشن کرنے کا جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کی بیوی بشریٰ بی بی کو شریکِ جرم ہونے اور کرپشن میں معاونت کرنے پر 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
جرمانہ: عدالت نے خان پر 10 لاکھ پاکستانی روپے اور بی بی پر 500,000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔
اثاثوں کی ضبطی: عدالت نے القادر یونیورسٹی کو ضبط کرنے کا حکم دیا، جو اس منفرد کرپشن کیس کے مرکز میں تھی۔
190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس/ القادر ٹرسٹ کرپشن کیس کیا ہے
یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس میں کئی سطحوں پر کئی لوگوں کی غیر قانونی حرکتیں اور کرپشن ، کرپٹ پریکٹسز شامل ہیں۔ پاکستان کے ایک پراپرٹی ٹائیکون پر سنگین نوعیت کے کئی سول اور فوجداری مقدمات پاکستان کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھے۔ ان میں سے کرپشن کا سنگین ترین کیس کراچی میں سرکاری زمین کے غیر قانونی طریقہ سے حصول کے متعلق تھا۔
سپریم کورٹ کا بھاری جرمانہ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پراپرٹی ٹائیکون کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد اسے قانون کے مطابق سزا تجویز کرنے کی بجائے "آؤٹ آف دی باکس سالیوشن" یہ نکالا کہ اس کو بہت بھاری جرمانہ کر دیا۔ پراپرٹی ٹائیکون نے یہ جرمانہ کبھی (اب تک نہیں) ادا ہی نہیں کیا۔
این ایس اے کی منی لانڈرنگ تحقیقات
اس دوران 2019 میں، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے اس پاکستانی رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی نامعلوم منازل سے گزار کر پاکستان سے برطانیہ پہنچائی ہوئی ایک بہت بڑی رقم کے مشکوک ٹرانزیکشن کی تحقیقات کیں اور اسے منی لانڈرنگ کی رقم قرار دیا۔
تحقیقات کے بعد انگلینڈ کی نیشنل کرائم ایجنسی ابھی مزید قانونی کارروائی کر رہی تھی کہ پراپرٹی ٹائیکون نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ آؤٹ آف دی کورٹ تصفیہ کر لیا اور ایجنسی کی جانب سے مزید کارروائی نہ کرنے کے عوض رقم کی ضبطگی کو قبول کر لیا۔
190 ملین پاؤنڈ کی ضبطی
نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کی پاکستان سے منی لانڈرنگ کر کے لائی ہوئی 190 ملین پاؤنڈ خطیر رقم کو ضبط کرتے ہوئے عدالت سے باہر تصفیہ کیا اور برطانیہ کے قانون کے مطابق منی لانڈرنگ کی رقم کو اس کے اصل اوریجن یعنی پاکستان بھیجنے کے لئے پاکستانی ریاست (حکومت) سے رابطہ کیا، انہیں یہ آغاہ کیا کہ برطانیہ پاکستانی شہری سے ضبط کی گئی رقم (190 ملین پاؤنڈ) پاکستان کی ریاست کو بھیجنا چاہتا ہے۔
ایک سو نوے ملین پاؤنڈ ضبط شدہ رقم کا غلط استعمال
یہ رقم، جس کو پاکستان کی ریاست کو واپس بھیجا جا رہا تھا، اسے اس وقت کی حکومت پاکستان ک نے ریاست کی بجائے خود ملزم کو ہی منتقل کر دیا جو کہ انگلینڈ میں مزید کارروائی سے بچنے کے لئے اس رقم سے خود دستبراد ہو کر اسے ضبط کروا چکا تھا۔
پاکستان کی اس وقت کی حکومت کے وزیراعظم عمران خان نے انتہائی غیر معمولی کام کیا کہ اپنی کابینہ سے اس رقم کو پاکستان کی ریاست کے خزانہ میں جمع کروانے کی بجائے، ریاست کی ملکیت اس خطیر رقم کو ملزم ملک ریاض کے جرمانہ کی رقم کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا۔
مجرم کو سزا کی بجائے جزا کی بارش
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے انگلینڈ کی حکومت کو پاکستانی ریاست کے مجاز بینک اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے ملک ریاض سے جرمانہ وصولنے کے لئے مختص کیے گئے بینک اکاؤنٹ کا پتہ بھیج دیا گیا۔ انگلینڈ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستانی حکومت کے بھیجے ہوئے بینک اکاؤنٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کی بھاری رقم بھیج دی۔
یہاں پاکستان کی حکومت نے منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے پراپرٹی ٹائیکون کی انگلینڈ میں ضبط ہو چکی- اور اب پاکستانی ریاست کی ملکیت قرار پا چکی- رقم کو اسی شخص کو پاکستان کی سپریم کورٹ سے ہوئے ایک کئی سو ارب روپے جرمانہ کی ادائیگی کے لئے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں بخوشی بھیج دیا تاکہ وہ ایک علیحدہ زمین پر قبضے کے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ کو واجب الادا جرمانہ (کا کچھ حصہ) ادا کرے۔
من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو
پراپرٹی ٹائیکون نے اس غیر معمولی فائدہ پہنچانے کے عوض پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی بیوی کے نام سے بنائے گئے ایک ٹرسٹ، القادر ٹرسٹ کو زرعی زمین عطیہ کر دی اور ایک خطیر نقد رقم بھی اس ٹرسٹ کو دی۔ بظاہر یہ ایک "مخئیر" شہری کی طرف سے ایک فلاحی ٹرسٹ کیلئے عطیہ تھا لیکن بعد میں پاکستان کے قومی احتسابی ادارہ نیب نے یہ تعین کیا کہ دراصل القادر ٹرسٹ کو دیئے گئے عطیات رشوت ہیں جو ملک ریاض کو بہت بھاری رقم کا غیر قانونی فائدہ پہنچانے کے عوض ملی۔
Quid-pro-quo الزام
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی بیوی القادر ٹرسٹ میں ان کی شریکِ کار ٹرسٹی بشریٰ بی بی پر ذاتی فائدے کے لیے اپنے عہدوں کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ خاص الزام یہ تھا کہ عمران خان نے اپنی حکومت کے اختیارات کو انگلینڈ سے بھیجے گئے فنڈز (73 ارب روپے سے کچھ زیادہ مالیت ) ملک ریاض کو غیر قانونی طور پرری ڈائریکٹ کرنے میں سہولت فراہم کی۔ بدلے میں، ٹائیکون نے مبینہ طور پر قیمتی زمین القادر ٹرسٹ کو تحفے میں دی، جہاں خان اور بی بی ٹرسٹی تھے۔
مہر بند معاہدہ: وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور میں، عمران خان کی کابینہ نے NCA کے ساتھ تصفیہ کی منظوری دی۔ ناقدین نے اور عمران خان کے کئی وزیروں نے نشاندہی کی کہ اس معاہدے کی تفصیلات مہر بند لفافے میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں اور وزیروں سے فرمائش کی گئی کہ اس لفافے کو کھول کر دستاویز کو دیکھے بغیر ہی اس کی منطوری دیں۔ اور وزیروں نے ایسا ہی کیا۔
نیب کے ریفرنس پر اکاؤنٹیبلٹی کورٹ کا فیصلہ
نیب نے اپنے طریقہ کار کے مطابق اس پیچیدہ کرپشن کیس کی تحقیقات کی، کئی لوگوں کو ملزم کی حیثیت سے آئیڈینٹیفائی کیا اور ایک ریفرنس(استغاثہ) بنا کر اکاؤنٹیبلٹی کورٹ (احتساب عدالت) میں دائر کر دیا۔ اس کیس کی طویل سماعتیں ہوئیں، درجنوں گواہ پیش ہوئے، ان تمام گواہوں پر طویل عرصہ کے دوران ملزموں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیلوں نے جرحیں کیں، ضابطے کی تمام کارروائیاں مکمل ہوئین تو احتساب عدالت نے اس مقدمہ کے کچھ ملزموں کے معاملہ کو بعد پر چھوڑ کر، دو گرفتار ہو چکے ملزموں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بالترتیب 14 سال اور 7 سال قید کی سزائیں سنا دیں، ان کے اثاثے ضبط کر لئے اور القادر ٹرسٹ کو ضبط کر کے بھی سرکاری تحویل میں دے دیا۔
آگے کیا ہو رہا ہے
دائر اپیلیں: پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی بیوی بشریٰ بی بی دونوں اس کیس کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں۔ دونوں نے الگ الگ وکیلوں کے ذریعہ اس کیس مین ہوئی سزاؤں کو اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) میں چیلنج کیا اور سر دست ان سزاؤں کو معطل کر کے انہیں رہا کرنے کی درخواستیں کیں۔
سماعت کا شیڈول:آج 18 ستمبر 2025 کو صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ IHC نے ان دونوں کی سزا ئیں معطل کرنے کی درخواستوں کی سماعت 25 ستمبر 2025 کو کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بظاہر سست پیشرفت: مئی 2025 میں اسلام آباد ہائی وکرٹ کے IHC کے ایک اہلکار کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ عدالت عالیہ مین ایسے مقدمات کی بہت بڑی تعداد پہلے ہی زیر التوا ہونے کے باعث اس سال کے دوران اپیلوں کی سماعت کا امکان نکم ہے۔ لیکن آج چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے بانی کی بہن علیمہ خان کی درخواست پر اس زیر التوا کیس کی سماعت 25 ستمبر سے کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔