غزہ میں کیا ہو رہا ہے؟
اسرائیل نے دوحہ میں مذاکرات کے عمل سے مایوس ہو کر منگل کی صبح غزہ کے بعض علاقوں میں جنگ بندی توڑ دی اور حماس کے معلوم ٹھکانوں اور اس کے اہلکاروں میں سے بعض لوگوں کے گھروں پر بمباری کی ۔ الجزیرہ نیوز نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نےمنگل کو علی الصبح ہونے والے حملوں میں 400 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔
سرائیل کی ائیرفورس نے غزہ کے رہائشی علاقوں میں بعض گھروں پر بمباری کی جس سے الجزیرہ نیوز کے دعوے کے مطابق پورے خاندانوں کا صفایا ہو گیا۔
حملے کہاں ہوئے؟
اسرائیلی ائیرفورس کے حملوں میں شمالی، وسطی اور جنوبی گورنریٹس میں حماس کے معلوم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
الجزیرہ عربی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے خان یونس کے اباسان قصبے میں بھی گولہ باری کی۔
الجزیرہ کے طارق ابو عزوم نے کہا، "زیادہ تر فضائی حملے بہت زیادہ تعمیر شدہ محلوں، عارضی اسکولوں اور رہائشی عمارتوں پر کیے گئے ہیں۔
ہم متاثرین کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
الجزیرہ نیوز نے بتایا کہ چند گھنٹوں میں کم از کم 404 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
حماس کے میڈیا آفس نے کہا: "ان شہیدوں اور لاپتہ افراد میں سے زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے ہیں"، ہ کچھ معاملات میں، "پورے خاندان" مارے گئے تھے۔
اسرائیل نے جنگ بندی توڑنے کی کیا وجہ بتائی؟
اسرائیل حماس کو غزہ میں قید اپنے یرغمالیوں کی رہائی پر مجبور کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ حماس دوبارہ مسلح ہو رہی ہے اور ایک نئے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
دوحہ میں کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات مین امریکہ نے تجویز پیش کی تھی کہ حماس اور اسرائیل جنگ بندی کی پہلی فیز میں توسیع کرین اور باقی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے شیدول طے کریں۔ جنگ بندی کی پہلی فیز 42 دن پر مشتمل تھی، دوسری فیز کے لئے الگ سے مذاکرات 19 جنوری کو ہونا تھے جو کبھی شروع نہیں ہو سکے۔ تعطل کے دوران جنگ بندی ٹوٹنے کا خطرہ تالنے کے لئے امریکہ یہ تجویز لایا تھا کہ جنگ بندی کی پہلی فیز کو ہی توسیع دے دی جائے، جنگ بندی برقرار رہے اور حماس اسرائیل کے باقی 59 یرغمالیوں کی رہائی کی طرف آئے۔
حماس نے امریکہ کی اس تجویز کو ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا اور اصرار کیا تھا کہ جنگ بندی کے دوسرے محلہ کے لئے مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ابتدا میں طے ہونے والے پیرامیترز کے مطابق دوسرے مرحلہ میں باقی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ اسرائیل کو غزہ سے فوج واپس لے جانا تھی لیکن پہلے مرحلہ کے دوران 42 دن میں حماس نے غزہ مین اپنی طاقت کا ہر روز بھرپور مظاہرہ کیا اور یہ تاثر دیا کہ اس کی تنظیم اور افرادی قوت برقرار ہے اور وہی غزہ کو دوبارہ کنٹرول کر رہی ہے۔ اس تاثر سے اسرائیل نے غزہ کو جنگ بندی کے دوسرے مرحلہ میں چھوڑنے اور مستقل جنگ بندی کی طرف جانے سے انکار کر دیا۔
اس دوران ثالثوں کی کوشش سے دوحہ میں مذاکرات دوبارہ شروع تو ہو گئے لیکن حماس کے امریکی تجویز کو مسترد کرنے کے بعد اسرائیل کے مذاکرات کار دو روز پہلے یروشلم واپس چلے گئے تھے۔
اب حماس کیا کہہ رہی ہے
حماس نے اپنے ٹیلی گرام پر ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔
حماس نے حملوں کو بین الاقوامی اور انسانی کنونشنز کی خلاف ورزی" قرار دیا اور کہا کہ ایندھن کی کمی کا مطلب ہے کہ بہت سے زخمی اس لیے مر گئے کہ وہ ہسپتالوں تک پہنچنے سے قاصر تھے۔
امریکہ نے کیا جواب دیا
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسرائیل نے حملے دوبارہ شروع کرنے سے پہلے امریکہ سے مشورہ کیا ہے۔
ہم قیدیوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں
اسرائیلی حکومت کے مطابق غزہ میں تقریباً 59 اسرائیلی اسیران رہ گئے ہیں جن میں سے نصف سے بھی کم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
حماس نے اپنے اسیروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔
اسرائیل میں یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے کہا کہ "ان کا سب سے بڑا خوف سچ ہو گیا ہے" یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے حکومت پر اسیروں کو بے سہارا چھوڑنے کا الزام لگایا۔
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے ایک بیان میں کہا، "ہم اپنے پیاروں کو حماس کی خوفناک قید سے واپس کرنے کے عمل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے پر حیران، ناراض اور خوفزدہ ہیں۔"
جنگ بندی ٹوٹنے کی وجہ کیا ہے
اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹحہرا رہے ہیں، گزشتہ ہفتوں کے دوران یہ ہوا کہ حماس نے مسلح دہشتگرد تنظیم کی حیثیت سے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اسرائیل نے حماس کی طاقت برقرار رہنے کو جواز بنا کر غزہ سے فوج نکالنے کی طرف جانے سے گریز کیا۔
ثالث قطر اور دوسرے ثالث امریکہ کی جنگ بندی کا پہلا فیز ختم ہونے کے بعد مستقبل کے حوالے سے رائے الگ الگ ہو گئی۔ امریکہ نے جنگ بندی کی پہلی فیز کو ہی توسیع دینے کی وکالت کی تاکہ یرغمالیوں کی واپسی کا رکا ہوا سلسلہ بحال ہو اور جنگ بندی ٹوٹنے کا امکان ختم ہو اور اس دوران فریقین جنگ بندی کے مستقبل کے متعلق مذاکرات کو آغے بڑھا سکیں۔
حماس نے اس تجویز کو مسترد کیا اور اپنے مؤقف مین کوئی لچک نہیں دکھائی۔ دوحہ میں مذاکرات کی تیبل ویران ہونے کے بعد بھی دو دن کے دوران حماس نے اپنے مؤقف میں کوئی لچک نہیں دکھائی۔
حماس کا اندازہ کچھ بھی رہا ہو، نتیجہ جنگ بندی ٹوٹ جانے کی صورت میں نکلا اور اس مرتبہ جنگ بند کروانے اور ڈیل کروانے کے لئے صدر بائیڈن کے مذاکرات کار بھی موجود نہیں۔ ان کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کار ہیں جنہیں حماس مایوس کر چکی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ بہرحال ایک وسیع تر تنازعہ کا حصہ ہے جو وہ پورے خطے میں لڑ رہا ہے، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
اسرائیل کے اور لبنانی حکومت کے درمیان جنگ بندی پر دستخط ہونے کے بعد جب جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے دوبارہ سر اٹھایا تو اسرائیل نے جنگ بندی توڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ ظاہر نہین کی تھی البتہ غغزہ کے ضمن میں اس نے باقی 24 زندہ یرغمالیوں کی واپسی کی خاطر جنگ بندی کی پہلی فیز ختم ہو جانے کے بعد منگل کی صبح تک جنگ بندی توڑنے سے گریز کیا۔
مزید یہ کہ اسرائیل فلسطینی جنگجوؤں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں پر چھاپوں کی اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ پناہ گزین کیمپوں مین حماس کے مسلح گروہ چھپے ہوئے ہیں۔
الجزیرہ نیوز سمیت فلسطینیوں کے کئی حامیوں نے اور فلسطینی اتھارٹی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پناہ گزین کیمپوں مین مسلح گروپ موجود ہیں۔
تاہم، ماہرین نے پہلے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں مسلح گروہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہیں، جو 2021 میں زیادہ تر کیمپوں پر اسرائیل کے پرتشدد، متواتر چھاپوں اور اس کے کیمپوں میں داخل ہونے اور بڑھتے ہوئے پرتشدد قبضے کا جواب دینے کے لیے بنائے گئے تھے۔ اسرائیل ان مسلح گروہوں کو ایران کی شرارت تصور کرتا ہے۔