سٹی 42: خلع کے بعد خاتون پر مقدمہ کرنے والے سابق شوہر کو عدالت نے جرمانہ کردیا ۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں پھنسانا اسکی عزت نفس اور خودمختاری پر شدید حملہ ہے، سپریم کورٹ نے عدالتی عمل کا غلط استعمال کرنے والے سابق شوہر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
سابق شوہر 30 دن کے اندر جرمانے کی رقم اپنی سابقہ اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہوگا۔جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں فیملی کورٹ کے ذریعے وصول کیا جائے،شوہر نے اہلیہ پر بدکردار ہونے کا الزام لگایا جس کا مقصد خاتون کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔سپریم کورٹ کورٹ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ۔
سپریم کورٹ نے کہا قانونی طور پر خلع لینے اور عدت مکمل کرنے کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل حق حاصل ہے، خلع کے بعد دوسری شادی کرنے کیلئے خاتون کو سابق شوہر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔جھوٹے فوجداری مقدمات اور کردار کشی کا مقصد صرف دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔خواتین کے خلاف مقدمہ بازی کو ہراساں یا تذلیل کرنے کیلئے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ملک بھر کی عدالتیں نکاح کے تنازعات میں قانون کے غلط استعمال پر ہوشیار رہیں ۔
بدنیتی پر مبنی مقدمہ بازی روکنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔سائلین کی عزت نفس کا تحفظ کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے،سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سابق شوہر کی اپیل خارج کر دی۔
2014 میں پشاور فیملی کورٹ نے حق مہر سے دستبرداری پر خاتون کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی تھی۔درخواست گزار سابق شوہر پر اہلیہ پر تشدد، گھر سے نکالنے اور 4 سالہ بیٹی کو ماں سے جدا رکھنے کے الزامات تھے۔فیملی کورٹ نے کمسن بچے کی تحویل ماں کے سپرد کی تھی۔خلع اور عدت کی تکمیل کے بعد خاتون نے دوسرا نکاح کیا تو سابق شوہر نے نئی مقدمہ بازی شروع کر دی۔
سابق شوہر نے دفعہ 22-اے کے تحت مقدمہ اندارج کی درخواست دی کہ خاتون اب بھی اس کے نکاح میں ہے۔متعلقہ ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ کے سامنے یہ الزامات پہلے ہی مسترد ہو چکے ہیں۔22-اے کی درخواست خارج ہونے پر سابق شوہر نے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا