ملک اشرف : ملازمین کی جانب سے ایڈوانس رقم کے تقاضے پر تین افراد کے قتل کا معاملہ ،تہرے قتل کیس میں تین بار پھانسی پانے والے مجرم کی اپیل لاہور ہائیکورٹ سے خارج ،دو رکنی بینچ نے مجرم محمد شفیع کی سزائے موت کنفرم کردی ،ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا مجرم محمد شفیع کو تین بار پھانسی دینے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی, عدالت میں مدعی مقدمہ کا وکیل پیش نہ ہوا .
ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نزہت بشیر نے مجرم کی بریت اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ تھانہ سوہدرہ ضلع گوجرانولہ نے 22 جنوری 2000 کو تین افراد کے قتل کا مقدمہ درج کیا .
پولیس حکام کے مطابق ملزم نے ایڈوانس رقم مانگنے پر شفاعت اللہ ، ذکاء اللہ اور عتیق اللہ کو خنجروں سے قتل کیا ،قتل ہونے والوں میں دو سگے بھائی اور ایک ان کا بھتیجا تھا.
ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نزہت بشیر کا مزید کہنا تھا کہ وجہ عناد ثابت ہوئی ، مجرم سے آلہ قتل خنجر بھی برآمد ہوا ، چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی بھی ثابت ہوتی ہے۔پولیس تفتیش اورمیڈیکل رپورٹ کے مطابق ملزم قصور وار ہے۔
سیشن کورٹ نے میرٹ پر مجرم کو سزائے موت کا حکم سنایا, ملزم کے وکیل نے مجرم کی بریت کے لیے دلائل دئیے لیکن عدالت کو مطمئن نہ کرسکا۔