انور عباس: پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی کئی ماہ کی ثالثی کے بعد 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت فریقین نے چھ ماہ بعد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ایرانی سفیر کے مطابق بعد ازاں امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں کی ایسی تشریح کی جو ان کے بقول اصل متن سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی تشریح کی بنیاد پر آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا تاکہ وہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں جو جنگ کے دوران حاصل نہیں ہو سکے تھے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران نے اس تشریح کو مفاہمتی یادداشت کی شرائط کے منافی قرار دیتے ہوئے قبول نہیں کیا، کیونکہ ان کے مطابق یہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھی۔
ایرانی سفیر نے اپنے بیان میں مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی شرائط اور بین الاقوامی اصولوں کے برخلاف جنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔