ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا پراپرٹی فراڈ کیس میں اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا پراپرٹی فراڈ کیس میں اہم فیصلہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی فراڈ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے دو پراپرٹی ڈیلرز کی قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کر دی ہے اور قرار دیا ہے کہ ہر مقدمے میں گرفتاری تفتیش کے لیے لازمی نہیں ہوتی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض کسی شخص کا پراپرٹی ڈیلر یا کسی معاہدے کا گواہ ہونا اسے جرم میں ملوث ثابت نہیں کرتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ابتدائی ثبوت موجود نہیں جس سے درخواست گزاروں کا جعلی دستاویزات کی تیاری یا ان کے استعمال میں براہِ راست تعلق ثابت ہو سکے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فراڈ کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ ملزم کی بدنیتی ابتدا ہی سے موجود تھی۔ صرف معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونا یا وعدہ پورا نہ کرنا ازخود دھوکہ دہی کے زمرے میں نہیں آتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ جعلی دستاویز استعمال کرنے کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ متعلقہ شخص کو دستاویز کے جعلی ہونے کا علم تھا اور اس نے اسے دھوکہ دہی کی نیت سے استعمال کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ پراپرٹی فراڈ کے مقدمات میں تفتیشی اداروں اور ماتحت عدالتوں کو گواہ اور شریکِ جرم کے درمیان واضح فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ فیصلے میں ان قانونی اصولوں کو آئندہ مقدمات کے لیے اہم عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔