سٹی42: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو مخصوص نشستوں سے مھروم ہونے کے بعد دوسرا بڑٓ سیٹ بیک یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی میں اس کے مخلاف ارکان سینیٹ کے الیکشن کیلئے نامزدگیوں کو لے کر اس کے خلاف کھڑے ہو گئے اور پارٹی واضح طور پر علی امین کے حامی اور مخالف ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم ہو گئی۔
پی ٹی آئی میں علی امین کے حامی اور مخالف ارکان صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں یہ تصادم جیسی کیفیت ان قیاس آرائیوں کے دوران شامنے آ رہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں علی امین کی حکومت کو برطرف کروانے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک لانے جیسا فیصلہ کن اقدام کر سکتی ہیں۔
صرف چند روز پہلے علی امین گنڈاپور نے لاہور آ کر نیوز کانفرنس کی تھی اور لاہور سے "احتجاجی تحریک" چلا کر پورے "پاکستان کو فتح" کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آج کی خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ہی ارکان اسمبلی اور رہنما وں نے علی امین گنڈاپور پر عدم اعتماد کر دیا۔
سینیٹ الیکشن کے لئے علی امین گنڈاپور جن لوگوں کو پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی سے ووٹ دلوا کر منتخب کروانا چاہتے ہیں، وہ بہت سے ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کو قبول نہیں اور دوسرے کئی لوگوں نے بھی سینیٹ کے الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں۔ سینیٹ کے خیبر پختونخوا کی نشستوں کے الیکشن باقی صوبوں کے ساتھ نہیں ہوئے تھے کیونکہ اس وقت علی امین گنڈٓپور نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور جعمیت علما اسلام اور اے این پی کے مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان اسمبلی سے حلف ہی نہین لینے دیا تھا اور ان ارکان کو سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے سے محروم کر دیا تھا، اس حرکت پر الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ ک الیکشن ہی ملتوی کر دیا تھا جو اب مخصوص نشستوں کا سپریم کورٹ میں حتمہ فیصلہ ہونے کے بعد اور مخصوص نشستین انہیں مخالف پارٹیوں کے ارکان کو ملنے کے بعد دوبارہ ہو رہا ہے تو یہ الیکشن پی ٹی آئی اور علی امین کیلئے ڈراؤنا خواب بن گئے۔علی امین کے منطور نظر امیدواروں کو پارٹی کے ووٹر ارکان اسمبلی منظور نہیں کر رہے۔ یہ اختلافات آج جمعہ کے روز مزید شدت اختیار کرگئے۔
اب تک اطلاع یہ ہے کہ علی امین گنڈا پور پارٹی اختلافات ختم کرنے میں ناکا م ہو گئے۔
ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما وں نے علی امین گنڈاپور پر عدم اعتماد کر دیا ہے اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔
پی ٹی آئی پشاور کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس میں علی امین گنڈاپور پر شدید الزامات عائد کردیئے۔
علی امین کے مخالف گروپ نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ورکرز کی بجائے "اے ٹی ایمز "کو ٹکٹ دیئے جارہے ہیں۔
پشاور کے رہنماؤں نے آج اعلان کیا ، عرفان سلیم سینیٹ الیکشن کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لیں گے۔
ان رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ سینیٹ الیکشن میں" اے ٹی ایم امیدواروں" (علی امین کو پیسہ دے کر سینیٹ کے امیدوار بننے والوں) کو ووٹ دینے والوں کے گھر کا گھیراؤ کریں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا، سینیٹ الیکشن کیلئےپارٹی امیدواروں کی فہرست پرنظرثانی کی جائے۔ ہمارےایسے مطالبات نہیں کہ کہا جائے ہم بغاوت کررہے ہیں۔