ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران میں خامنہ ای کی اسلامک جہاد کے لیدر سے ملاقات، غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کی مخالفت

Islamic Jihad, City42, Khamenaei, Iran- Israel conflict , Gaza Ceasefire, Gaza reconstruction plan
کیپشن: ایرانی اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر اور فلسطینی اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کے درمیان تہران میں 18 فروری 2025 کو ہونے والی ملاقات کی یہ تصویر ایران کی ایک سرکاری ایجنسی نے جاری کی۔  اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں میں حماس کے ساتھ اسلامک جہاد کے مسلح کارکن بھی شامل تھے۔ اس روز سے ہی لبنان میں خامنہ ای کے زیر اثر حزب اللہ نے اور اس کے ساتھ یمن میں ایران کی حمایت سے استوار حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل پر راکٹوں اور میزائلوں کے حملے شروع کر دیئے تھے۔ اسرائیل نے اس جنگ میں غزہ کو عملاً ملبہ بنا ڈالا۔ لاکھوں فلسطینی اب گھروں سے محروم بے یار و مددگار ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42:  ایران کے سپریم لیڈ  خامنہ ای نے کہا ہے کہ "غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کا امریکی منصوبہ" 'کہیں نہیں جائے گا۔
 ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی سے بے گھر فلسطینیوں کو  کچھ عرصہ کے لئے کسی دوسری جگہ رکھنے کی امریکہ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ "کہیں نہیں جائے گا"۔ 

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے یہ بات تہران میں فلسطینی گروپ اسلامک جہاد کے سربراہ زیاد النخالہ سے ملاقات کے دوران کہی۔

خامنہ ای نے کہا کہ غزہ اور فلسطین کے حوالے سے "امریکہ کے احمقانہ منصوبے" یا "کچھ اور منصوبے" کہیں نہیں جائیں گے۔

خامنہ ای نے کہا کہ مسلح تنظیموں اور غزہ کے عوام کی رضامندی کے بغیر کوئی منصوبہ مکمل نہیں کیا جائے گا، خامنہ ای نےکہا  کہ عالمی رائے عامہ فلسطینیوں کے حق میں ہے۔

خامنہ ای نے حالیہ جنگ بندی کو ماننے پر اسرائیل کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا،  "وہ لوگ جنہوں نے ڈیڑھ سال پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ" مزاحمت کو تھوڑے عرصے میں ختم کر دیں گے"، اب وہ اپنے قیدی چھوٹے گروہوں   کی شکل میں "مزاحمتی جنگجوؤں" سے وصول کر رہے ہیں۔"

دوحہ جنگ بندی کے پہلے مرحلہ میں جن 33  عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو رہا کیا جانا تھا ان میں سے چھ کی رہائی باقی ہے جو اس ہفتے کے روز اور آئندہ ہفتے کے روز ہو گی۔ حماس ہر ہفتے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرتی ہے، کچھ یرغمالی اسلامک جہاد کے بھی قبضہ میں ہیں جن میں سے  اب تک چند کو ہی رہائی ملی ہے۔

دوسرے مرحلہ میں مزید کتنے یرغمالی رہا ہوں گے اور ان کے عوض اسرائیل کیا دے گا یہ سرسری ہی طے ہے، اصل تفاصیل طے ہونا ابھی باقی ہے۔ اس دوران  جنگ بندی کے ٹوٹ جانے اور جنگ دوبارہ شروع ہو جانے کا سنگین احتمال ہے تاہم ایران کے روحانی رہنما نے ان پیچیدہ نکات پر کوئی بات نہیں کی۔